Friday, 14 August 2026

اپنی جاگیر اٹھا جود و سخا بھی لے جا

 اپنی جاگیر اُٹھا جُود و سخا بھی لے جا

ٹُوٹ جائے نہ کہیں اپنی وفا بھی لے جا

میرا ہمدرد ہے تُو، تُجھ سے شکایت کیسی

زخم دیتا ہے تو پھر میری دُعا بھی لے جا

ہم سے دِیوانے بھی مِلتے ہیں بڑی مُشکل سے

اپنے بارے میں بتا، میرا پتہ بھی لے جا

ایسے وِیرانے میں تصویر بھی گھبرا جائے

ہم تو زندہ ہیں کہیں ہم کو اُٹھا بھی لے جا

بے زبانی کبھی اچھی نہیں لگتی انجم

گُونگے تاروں کے لیے تھوڑی نِدا بھی لے جا


سبحان انجم

No comments:

Post a Comment