یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا
سرمایۂ جمال تمہیں کون دے گیا
موسیقیوں کی چاندنی نکھری ہے لفظ لفظ
یہ عشرت خیال تمہیں کون دے گیا
اس وادیٔ سکون و مسرت کے باوجود
یہ رنج یہ ملال تمہیں کون دے گیا
یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا
سرمایۂ جمال تمہیں کون دے گیا
موسیقیوں کی چاندنی نکھری ہے لفظ لفظ
یہ عشرت خیال تمہیں کون دے گیا
اس وادیٔ سکون و مسرت کے باوجود
یہ رنج یہ ملال تمہیں کون دے گیا
تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہمسفر رہا
میں راہ آرزو میں اکیلا کبھی نہ تھا
یہ اور بات رات جواں تھی جواں رہی
ساقی اداسیوں کے مجھے جام دے گیا
بازار وقت سے کہاں جنس وفا گئی
تنہا ہے ماہ مصر کا جلتا ہوا دیا
٭ گل کے نام٭
میرے نغموں کی شاہزادی ہو
نُزہتِ فکر کی تم عادی ہو
رُوپ وہ جس میں ہے حیا کا رنگ
عشرتِ آرزو،۔ وفا کا رنگ
پھُولوں کی تازگی بھی شامل ہے
نغمۂ زندگی بھی شامل ہے
جب درد کی شمعیں جلتی ہیں احساس کے نازک سینے میں
اک حسن سا شامل ہوتا ہے پھر تنہا تنہا جینے میں
کچھ لطف کی گرمی کی خاطر کچھ جانِ وفا کے صدقے میں
گیسوئے الم کے سائے میں راحت سی ملی ہے پینے میں
آغوشِ تمنا چھو آئیں جب زلفِ یار کی خوشبو میں
آنکھوں میں ساون لہرایا دیپک سا سلگا سینے میں