Showing posts with label قیصر قلندر. Show all posts
Showing posts with label قیصر قلندر. Show all posts

Tuesday, 31 March 2026

یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا

 یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا

سرمایۂ جمال تمہیں کون دے گیا

موسیقیوں کی چاندنی نکھری ہے لفظ لفظ

یہ عشرت خیال تمہیں کون دے گیا

اس وادیٔ سکون و مسرت کے باوجود

یہ رنج یہ ملال تمہیں کون دے گیا

Saturday, 2 August 2025

تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہمسفر رہا

 تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہمسفر رہا

میں راہ آرزو میں اکیلا کبھی نہ تھا

یہ اور بات رات جواں تھی جواں رہی

ساقی اداسیوں کے مجھے جام دے گیا

بازار وقت سے کہاں جنس وفا گئی

تنہا ہے ماہ مصر کا جلتا ہوا دیا

Sunday, 1 June 2025

میرے نغموں کی شاہزادی ہو

٭ گل کے نام٭


میرے نغموں کی شاہزادی ہو

نُزہتِ فکر کی تم عادی ہو

رُوپ وہ جس میں ہے حیا کا رنگ

عشرتِ آرزو،۔ وفا کا رنگ

پھُولوں کی تازگی بھی شامل ہے

نغمۂ زندگی بھی شامل ہے

Monday, 22 March 2021

جب درد کی شمعیں جلتی ہیں احساس کے نازک سینے میں

 جب درد کی شمعیں جلتی ہیں احساس کے نازک سینے میں

اک حسن سا شامل ہوتا ہے پھر تنہا تنہا جینے میں

کچھ لطف کی گرمی کی خاطر کچھ جانِ وفا کے صدقے میں

گیسوئے الم کے سائے میں راحت سی ملی ہے پینے میں

آغوشِ تمنا چھو آئیں جب زلفِ یار کی خوشبو میں

آنکھوں میں ساون لہرایا دیپک سا سلگا سینے میں