Saturday, 6 June 2026

ہر پھول کے چہرے پہ دکھاوے کی ہنسی ہے

 ہر پھول کے چہرے پہ دِکھاوے کی ہنسی ہے

آنگن میں بہاروں کے خِزاں ناچ رہی ہے

بادل بہت آئے گئے، دھرتی رہی پیاسی

لگتا ہے سمندر ہی پہ برسات ہوئی ہے

یاروں نے کھڑی جھوٹ کی دیوار تو کر لی

نِکلی وہ مگر ریت کی جو بیٹھ گئی ہے

قِسمت کا لِکھا وقت پہ مِل کر ہی رہے گا

جس شے پہ مِرا نام تھا وہ مجھ کو مِلی ہے

اک حُسن کا بہتا ہوا دریا سہی دنیا

کس کی مگر آنکھوں کی یہاں پیاس بُجھی ہے

ظاہر کے خداؤں سے تو دنیا ہے سوالی

جو سب کا خدا ہے یہ اسے بھُول گئی ہے

عاقل کا پتہ پوچھنے والوں کو بتا دو

اس عالمِ مستی میں خوشی ہے نہ غمی ہے


دھرم پال عاقل

No comments:

Post a Comment