Tuesday, 9 June 2026

اپنے ناموس کا سودا نہیں ہونے دوں گا

 اپنے ناموس کا سودا نہیں ہونے دوں گا

میں اسے اور کسی کا نہیں ہونے دوں گا

لوگ مشکیزے لیے پانی کو ترسیں دن بھر

یہ تماشا لبِ دریا نہیں ہونے دوں گا

جیت کا جشن مناؤں گا مگر یاد رہے

اپنے دُشمن کو بھی رُسوا نہیں ہونے دوں گا

نا رسائی میں بھی اک لُطف ہے اس واسطے میں

ہجر کے زخم کو اچھا نہیں ہونے دوں گا

جب تلک ہے مِری تلوار سلامت خالد

اپنے سالار کو تنہا نہیں ہونے دوں گا


خالد مصطفیٰ

No comments:

Post a Comment