اپنے ناموس کا سودا نہیں ہونے دوں گا
میں اسے اور کسی کا نہیں ہونے دوں گا
لوگ مشکیزے لیے پانی کو ترسیں دن بھر
یہ تماشا لبِ دریا نہیں ہونے دوں گا
جیت کا جشن مناؤں گا مگر یاد رہے
اپنے دُشمن کو بھی رُسوا نہیں ہونے دوں گا
نا رسائی میں بھی اک لُطف ہے اس واسطے میں
ہجر کے زخم کو اچھا نہیں ہونے دوں گا
جب تلک ہے مِری تلوار سلامت خالد
اپنے سالار کو تنہا نہیں ہونے دوں گا
خالد مصطفیٰ
No comments:
Post a Comment