Showing posts with label صائمہ زیدی. Show all posts
Showing posts with label صائمہ زیدی. Show all posts

Sunday, 6 November 2022

ہجر آثار تھا اک شہر تہہ دل نہ رہا

 ہجر آثار تھا اک شہر، تہہ دل نہ رہا

آ گئے تم تو کوئی چاہ کے قابل نہ رہا

وقت کی کونسی جہتوں میں تجھے ڈھونڈتی میں

کہکشاں دل نہ ہوئی، عشق درِ دل نہ رہا

مل کہ اب جا کے میسر ہوئی پوری خلوت

آ، کہ اب دشت بدن بیچ میں حائل نہ رہا

Monday, 2 August 2021

سنہری راستوں پر چل رہی تھی

 سنہری راستوں پر چل رہی تھی

تِرے خوابوں میں شاید ڈھل رہی تھی

سرِ مژگاں رہے تھے اتنے آنسو

مِرے خوابوں کی چادر گل رہی تھی

میں یوں بِکھری تھی تیرے ہجر کی شب

کفِ افسوس چاہت مل رہی تھی

Thursday, 6 May 2021

سیلاب صفت ہے تری یادوں کی گھٹا بھی

 سیلاب صفت ہے تِری یادوں کی گھٹا بھی

جاتے ہوئے ساون نے عجب دھوم مچا دی

سب نام تِرے تھے سبھی امکان تِرے تھے

تجھ کو ہی ہر اک موڑ پہ رُک رُک کے صدا دی

سہنا وہی اک ہجر کا آزار زمیں کو

اور چشمِ فلک کی وہی بلور نمائی

Wednesday, 5 May 2021

کرشنا مورے توری اکھیاں چاند کٹورے

 کرشنا مورے

توری اکھیاں، چاند کٹورے

جن کی چاہ میں سرگرداں ہیں

ہنستی شامیں، مست سویرے

سانولے مُکھ پر ایسے دمکیں

جیسے برف کی تہہ میں مہکے ٹھنڈی میٹھی آگ

Monday, 3 May 2021

سوچ رکھنا بھی جہاں جرم بغاوت ٹھہرے

 سوچ رکھنا بھی جہاں جُرمِ بغاوت ٹھہرے

لب کشائی کی وہاں کیا کوئی صورت ٹھہرے

تم کو تو قتل بھی جائز ہو بنامِ غیرت

میں اگر شعر بھی کہہ دوں تو بغاوت ٹھہرے

مشورے جب کہ ہوں آندھی سے چمن کی بابت 

کیا پھر ایسے میں گُل و برگ کی صورت ٹھہرے

Sunday, 2 May 2021

ہجر کے جام سے سیراب رہا کرتے تھے

 ہجر کے جام سے سیراب رہا کرتے تھے

موسم غم میں نمو یاب رہا کرتے تھے

دید کی شرط نہ تھی عشق کے افسانے میں

ہم تجھے سوچ کے شاداب رہا کرتے تھے

تیری آنکھوں میں دمکتے تھے ستاروں کی طرح

خواب تھے اور پسِ خواب رہا کرتے تھے

Saturday, 1 May 2021

چاند ڈھل گیا جاناں

 چاند ڈھل گیا جاناں

خوابِ نیم شب ٹُوٹا

کہہ رہی ہے چشمِ نم

دُھوپ لوں ہتھیلی پر

اور مانگ میں بھر لوں


صائمہ علی زیدی

محبتوں میں خسارے مرے نہیں ہوئے تھے

 محبتوں میں خسارے، مِرے نہیں ہوئے تھے

تِرے بغیر گزارے مرے نہیں ہوئے تھے

اُتر رہا تھا بدن پر کوئی صحیفۂ لمس

پر ان لبوں کے کنارے مرے نہیں ہوئے تھے

میں برفزارِ تمنا میں جی رہی تھی کہیں

سو دل میں اُڑتے شرارے مرے نہیں ہوئے تھے

Wednesday, 21 April 2021

گل نشاط میں رکھا نہ فصل غم کو دیا

 گُلِ نشاط میں رکھا نہ فصلِ غم کو دیا

صبائے عشق نے خوشبو کا ظرف ہم کو دیا

عجب سکوں ہے طبیعت میں جب سے اس دل نے

تِری خوشی کی ضمانت میں اپنے غم کو دیا

زبانِ خلق نے کیا کیا نہ ہم کو نام دھرے

کرم کا نام جو ہم نے تِرے ستم کو دیا

Tuesday, 20 April 2021

عجب نہیں کہ اسے بھی یہ ہجر راس نہ ہو

 عجب نہیں کہ اسے بھی یہ ہجر راس نہ ہو

سو اس قدر بھی دلِ منتظر اداس نہ ہو

تِرے فراق میں بھی نشہ قُربتوں کا ملا

سو تیرے بعد رفاقت کسی کی راس نہ ہو

یہ میری بے طلبی ایسا دن بھی دِکھلائے

کہ جام سامنے ہو اور لب پہ پیاس نہ ہو