ہجر آثار تھا اک شہر، تہہ دل نہ رہا
آ گئے تم تو کوئی چاہ کے قابل نہ رہا
وقت کی کونسی جہتوں میں تجھے ڈھونڈتی میں
کہکشاں دل نہ ہوئی، عشق درِ دل نہ رہا
مل کہ اب جا کے میسر ہوئی پوری خلوت
آ، کہ اب دشت بدن بیچ میں حائل نہ رہا
ہجر آثار تھا اک شہر، تہہ دل نہ رہا
آ گئے تم تو کوئی چاہ کے قابل نہ رہا
وقت کی کونسی جہتوں میں تجھے ڈھونڈتی میں
کہکشاں دل نہ ہوئی، عشق درِ دل نہ رہا
مل کہ اب جا کے میسر ہوئی پوری خلوت
آ، کہ اب دشت بدن بیچ میں حائل نہ رہا
سنہری راستوں پر چل رہی تھی
تِرے خوابوں میں شاید ڈھل رہی تھی
سرِ مژگاں رہے تھے اتنے آنسو
مِرے خوابوں کی چادر گل رہی تھی
میں یوں بِکھری تھی تیرے ہجر کی شب
کفِ افسوس چاہت مل رہی تھی
سیلاب صفت ہے تِری یادوں کی گھٹا بھی
جاتے ہوئے ساون نے عجب دھوم مچا دی
سب نام تِرے تھے سبھی امکان تِرے تھے
تجھ کو ہی ہر اک موڑ پہ رُک رُک کے صدا دی
سہنا وہی اک ہجر کا آزار زمیں کو
اور چشمِ فلک کی وہی بلور نمائی
کرشنا مورے
توری اکھیاں، چاند کٹورے
جن کی چاہ میں سرگرداں ہیں
ہنستی شامیں، مست سویرے
سانولے مُکھ پر ایسے دمکیں
جیسے برف کی تہہ میں مہکے ٹھنڈی میٹھی آگ
سوچ رکھنا بھی جہاں جُرمِ بغاوت ٹھہرے
لب کشائی کی وہاں کیا کوئی صورت ٹھہرے
تم کو تو قتل بھی جائز ہو بنامِ غیرت
میں اگر شعر بھی کہہ دوں تو بغاوت ٹھہرے
مشورے جب کہ ہوں آندھی سے چمن کی بابت
کیا پھر ایسے میں گُل و برگ کی صورت ٹھہرے
ہجر کے جام سے سیراب رہا کرتے تھے
موسم غم میں نمو یاب رہا کرتے تھے
دید کی شرط نہ تھی عشق کے افسانے میں
ہم تجھے سوچ کے شاداب رہا کرتے تھے
تیری آنکھوں میں دمکتے تھے ستاروں کی طرح
خواب تھے اور پسِ خواب رہا کرتے تھے
چاند ڈھل گیا جاناں
خوابِ نیم شب ٹُوٹا
کہہ رہی ہے چشمِ نم
دُھوپ لوں ہتھیلی پر
اور مانگ میں بھر لوں
صائمہ علی زیدی
محبتوں میں خسارے، مِرے نہیں ہوئے تھے
تِرے بغیر گزارے مرے نہیں ہوئے تھے
اُتر رہا تھا بدن پر کوئی صحیفۂ لمس
پر ان لبوں کے کنارے مرے نہیں ہوئے تھے
میں برفزارِ تمنا میں جی رہی تھی کہیں
سو دل میں اُڑتے شرارے مرے نہیں ہوئے تھے
گُلِ نشاط میں رکھا نہ فصلِ غم کو دیا
صبائے عشق نے خوشبو کا ظرف ہم کو دیا
عجب سکوں ہے طبیعت میں جب سے اس دل نے
تِری خوشی کی ضمانت میں اپنے غم کو دیا
زبانِ خلق نے کیا کیا نہ ہم کو نام دھرے
کرم کا نام جو ہم نے تِرے ستم کو دیا
عجب نہیں کہ اسے بھی یہ ہجر راس نہ ہو
سو اس قدر بھی دلِ منتظر اداس نہ ہو
تِرے فراق میں بھی نشہ قُربتوں کا ملا
سو تیرے بعد رفاقت کسی کی راس نہ ہو
یہ میری بے طلبی ایسا دن بھی دِکھلائے
کہ جام سامنے ہو اور لب پہ پیاس نہ ہو