سنہری راستوں پر چل رہی تھی
تِرے خوابوں میں شاید ڈھل رہی تھی
سرِ مژگاں رہے تھے اتنے آنسو
مِرے خوابوں کی چادر گل رہی تھی
میں یوں بِکھری تھی تیرے ہجر کی شب
کفِ افسوس چاہت مل رہی تھی
ہوا تاحشر روشن گھر تمہارا
میں کہنے کو وہاں دو پل رہی تھی
ستارے تھے وہ یا آنسو تمہارے
کہ حِدت سے ہتھیلی جل رہی تھی
صائمہ زیدی
No comments:
Post a Comment