Showing posts with label ادیب سہارنپوری. Show all posts
Showing posts with label ادیب سہارنپوری. Show all posts

Wednesday, 14 August 2024

مطلع فاراں سے چمکا وہ عجب تر آفتاب

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مطلع فاراں سے چمکا وہ عجب تر آفتاب

دیر تک دیکھا کیا حیرت سے چھپ کر آفتاب

اُنﷺ کے آگے اور ٹھہریں کفر کی تاریکیاں

وہ جو ذروں کو بنا دیں مسکرا کر آفتاب

بن گئی ہیں بزم ہستی جگمگانے کے لیے

عارضِ احمدﷺ کی تنویریں سمٹ کر آفتاب

Tuesday, 18 August 2020

جب بھی کسی سے کہنے ہم اپنا غم گئے ہیں

جب بھی کسی سے کہنے ہم اپنا غم گئے ہیں 
ہونٹوں🗢 تک آتے آتے الفاظ جم گئے ہیں
ہم تک وہ آ سکے ہیں ان تک نہ ہم گئے ہیں
دن رات کیسے کیسے دے دے کے دم گئے ہیں
معیارِ دلنوازی ہیں پر جب سے ہم گئے ہیں
دل بھی ٹھہر گیا ہے، آنسو بھی تھم گئے ہیں

خرد سے ایسے الجھے ہیں کہ سلجھائے نہیں جاتے

خرد سے ایسے الجھے ہیں کہ سلجھائے نہیں جاتے
جہاں میں ہم سے دیوانے کہیں پائے نہیں جاتے
ہمارا اور گلوں کا رنگِ وحشت ایک جیسا ہے
نکل جاتے ہیں یوں دامن کہ سلوائے نہیں جاتے
بغیر ان کے بسا اوقات یہ محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے ہم دو عالم میں کہیں پائے نہیں جاتے

Sunday, 16 August 2020

حالات کیسے کیسے پہلو بدل رہے ہیں

✰حالات کیسے کیسے پہلو بدل رہے ہیں✰ 
پھولوں میں تُلنے والے کانٹوں میں پل رہے ہیں
کم پل صراط سے کچھ یہ بھی نہیں ہے زاہد
جن راستوں پہ ہم تم مدت سے چل رہے ہیں
اے کشتگانِ مشکل! ٹھہرو نہ ہو کے بد دل
دیکھو چراغِ منزل بجھ بجھ کے جل رہے ہیں

وہ شب کی زلف شکن در شکن میں آگ لگی

وہ پو پھٹی وہ کرن سے کرن میں آگ لگی
وہ شب کی زلفِ شکن در شکن میں آگ لگی
✰سلگ اٹھی وہ ردائے نجوم  و کاہکشاں
وہ دیکھ، دامنِ چرخِ کہن میں آگ لگی
نشاطِ گرمیٔ محفل تھی جس کی تابانی
اسی چراغ سے کیوں انجمن میں آگ لگی

نہیں کسی کی توجہ خود آگہی کی طرف

نہیں کسی کی توجہ خود آگہی کی طرف
کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف
تمہارا جلوۂ معصوم دیکھ لے اک بار
خیال جس کا نہ جاتا ہو بندگی کی طرف
مزاجِ شیخ و برہمن کی برہمی معلوم
کہ اب حیات کا رخ ہے خود آگہی کی طرف

منزلیں نہ بھولیں گے راہرو بھٹکنے سے

منزلیں نہ بھولیں گے راہ رو بھٹکنے سے 
شوق کو تعلق ہی کب ہے پاؤں تھکنے سے 
زندگی کے رشتے بھی دور دور تک نکلے 
روح جاگ اٹھتی ہے پھول کے مہکنے سے 
کتنے تیر کھائے ہیں کتنے غم اٹھائے ہیں 
باز ہی نہیں آتا، دل💗 مگر دھڑکنے سے 

تیرے نام کی تھی جو روشنی اسے خود ہی تو نے بجھا دیا

تیرے نام کی تھی جو روشنی اسے خود ہی تُو نے بجھا دیا
نہ جلا سکی جسے دھوپ، اسے چاندنی 🌕نے جلا دیا
میں ہوں گردشوں میں گھرا ہوا، مجھے آپ اپنی خبر نہیں
وہ جو شخص تھا میرا رہنما، اسے راستوں میں گنوا دیا
جسے تُو نے سمجھا رقیب تھا، وہی شخص تیرا نصیب تھا
تیرے ہاتھ کی وہ لکیر تھا، اسے ہاتھ سے ہی مٹا دیا

Sunday, 9 October 2016

کوئی موج گل سے کہہ دے نہ چلے مچل مچل کے

کوئی موج گل سے کہہ دے نہ چلے مچل مچل کے
وہ نظر بدل گئی ہے، میری زندگی بدل کے
شبِ ماہ مختصر تھی مجھے ہائے کیا خبر تھی
کہ طلوع پھر نہ ہو گا میرا ماہتاب ڈھل کے
مِری مشکلات تم نے تو کچھ اور بھی بڑھا دیں
رہِ زندگی میں دو دن مِرے ساتھ ساتھ چل کے

نغمۂ عشق بتاں اور ذرا آہستہ

نغمۂ عشقِ بتاں اور ذرا آہستہ
ذکرِ نازک بدناں اور ذرا آہستہ
میرے محبوب کی یادوں کے بھڑکتے ہیں چراغ
اے نسیمِ گزراں اور ذرا آہستہ
جس طرف سے وہ گزرتے ہیں صدا آتی ہے
اے قرارِ دل و جاں اور ذرا آہستہ

مرے شوق جستجو کا کسے اعتبار ہوتا

مِرے شوق جستجو کا کسے اعتبار ہوتا
سرِ راہ منزلوں تک نہ اگر غبار ہوتا
میں تجھے خدا سمجھ کر نہ گناہگار ہوتا
اگر ایک بے نیازی ہی تِرا شعار ہوتا 
جو ستم زدوں کا یا رب کوئی غمگسار ہوتا
تو غم حیات اتنا نہ دلوں پہ بار ہوتا

Wednesday, 29 July 2015

اک خلش کو حاصل عمر رواں رہنے دیا

اک خلش کو حاصلِ عمرِ رواں رہنے دیا
جان کر ہم نے انہیں نامہرباں رہنے دیا
آرزوئے قرب بھی بخشی دلوں کو عشق نے
فاصلہ بھی میرے ان کے درمیاں رہنے دیا
کتنی دیواروں کے سائے ہاتھ پھیلاتے رہے
عشق نے لیکن ہمیں بے خانماں رہنے دیا

بخشے پھر اس نگاہ نے ارماں نئے نئے

بخشے پھر اس نگاہ نے ارماں نئے نئے
محسوس ہو رہے ہیں دل و جاں نئے نئے
یوں قیدِ زندگی نے رکھا مضطرب ہمیں
جیسے ہوئے ہوں داخلِ زنداں نئے نئے
کس کس سے اس امانتِ دِیں کو بچائیے
ملتے ہیں روز دشمنِ ایماں نئے نئے