کوئی موج گل سے کہہ دے نہ چلے مچل مچل کے
وہ نظر بدل گئی ہے، میری زندگی بدل کے
شبِ ماہ مختصر تھی مجھے ہائے کیا خبر تھی
کہ طلوع پھر نہ ہو گا میرا ماہتاب ڈھل کے
مِری مشکلات تم نے تو کچھ اور بھی بڑھا دیں
نہ چُرا نگاہ ساقی! نہ برت یہ بے نیازی
تِرے پاس آئے ہیں ہم کئی راستے بدل کے
تِری بزم کے چراغوں کا نیا ہے رنگ دیکھا
کوئ مشتعل ہے بجھ کے کوئی مطمئن ہے جل کے
کئی آندھیوں میں الجھے کئی ظلمتوں میں ڈوبے
تیری آرزو کے لیکن نہ بجھے چراغ جل کے
شبِ ماہ مختصر تھی مجھے ہائے کیا خبر تھی
کہ طلوع ہی پھر نہ ہو گا مِرا ماہتاب ڈھل کے
منسوب بہ ادیب سہارنپوری
No comments:
Post a Comment