Sunday, 9 October 2016

کوئی موج گل سے کہہ دے نہ چلے مچل مچل کے

کوئی موج گل سے کہہ دے نہ چلے مچل مچل کے
وہ نظر بدل گئی ہے، میری زندگی بدل کے
شبِ ماہ مختصر تھی مجھے ہائے کیا خبر تھی
کہ طلوع پھر نہ ہو گا میرا ماہتاب ڈھل کے
مِری مشکلات تم نے تو کچھ اور بھی بڑھا دیں
رہِ زندگی میں دو دن مِرے ساتھ ساتھ چل کے
نہ چُرا نگاہ ساقی! نہ برت یہ بے نیازی
تِرے پاس آئے ہیں ہم کئی راستے بدل کے
تِری بزم کے چراغوں کا نیا ہے رنگ دیکھا
کوئ مشتعل ہے بجھ کے کوئی مطمئن ہے جل کے
کئی آندھیوں میں الجھے کئی ظلمتوں میں ڈوبے
تیری آرزو کے لیکن نہ بجھے چراغ جل کے
شبِ ماہ مختصر تھی مجھے ہائے کیا خبر تھی
کہ طلوع ہی پھر نہ ہو گا مِرا ماہتاب ڈھل کے

منسوب بہ ادیب سہارنپوری

No comments:

Post a Comment