دلوں کی عقدہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں
یہ آدمی کی خدائی کا وقت ہے کہ نہیں
کہو ستارہ شناسو،۔ فلک کا حال کہو
رخوں سے پردہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں
ہوا کی نرم روی سے جواں ہوا ہے کوئی
فریب تنگ قبائی کا وقت ہے کہ نہیں
دلوں کی عقدہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں
یہ آدمی کی خدائی کا وقت ہے کہ نہیں
کہو ستارہ شناسو،۔ فلک کا حال کہو
رخوں سے پردہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں
ہوا کی نرم روی سے جواں ہوا ہے کوئی
فریب تنگ قبائی کا وقت ہے کہ نہیں
یہ فضائے ساز و مضرب یے ہجوم تاج داراں
چلو آؤ ہم بھی نکلیں بہ لباس سوگواراں
یہ فسون روئے لیلیٰ بہ عذاب جان مجنوں
وہی حسن دشت و در ہے بہ طواف جاں نثاراں
غم کارواں کا آخر کوئی رخ نہ اس سے چھوٹا
وہ حدیث کہہ گئی ہے یہ ہوائے رہ گزاراں