Showing posts with label عزیز حامد مدنی. Show all posts
Showing posts with label عزیز حامد مدنی. Show all posts

Friday, 24 March 2023

دلوں کی عقدہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں

 دلوں کی عقدہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں

یہ آدمی کی خدائی کا وقت ہے کہ نہیں

کہو ستارہ شناسو،۔ فلک کا حال کہو

رخوں سے پردہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں

ہوا کی نرم روی سے جواں ہوا ہے کوئی

فریب تنگ قبائی کا وقت ہے کہ نہیں

Tuesday, 30 November 2021

یہ فضائے ساز و مضرب یے ہجوم تاج داراں

یہ فضائے ساز و مضرب یے ہجوم تاج داراں 

چلو آؤ ہم بھی نکلیں بہ لباس سوگواراں 

یہ فسون روئے لیلیٰ بہ عذاب جان مجنوں 

وہی حسن دشت و در ہے بہ طواف جاں نثاراں 

غم کارواں کا آخر کوئی رخ نہ اس سے چھوٹا 

وہ حدیث کہہ گئی ہے یہ ہوائے رہ گزاراں 

Tuesday, 23 April 2019

سب پیچ و تاب شوق کے طوفان تھم گئے

سب پیچ و تاب شوق کے طوفان تھم گئے
وہ زلف کھل گئی، تو ہواؤں کے خم گئے
ساری فضا تھی وادئ مجنوں کی خوابناک
جو روشناسِ مرگِ محبت تھے، کم گئے
وحشت سی ایک لالۂ خونِیں کفن سے تھی
اب کے بہار آئی تو سمجھو کہ ہم گئے

کچھ کرم ہم گوشہ گیروں پر بھی فرمایا کرو

کچھ کرم ہم گوشہ گیروں پر بھی فرمایا کرو
شہر میں آتے ہی رہتے ہو، ادھر آیا کرو
زندگی ہے دام اندر دام، دل کی کیا بساط
اک گرفتارِ بلا کو لاکھ سمجھایا کرو
ہمسفر برحق، مگر اک جائے رشکِ غیر ہے
آدمی کمبخت کوئی معتبر لایا کرو

Saturday, 5 November 2016

کیفیت اس کی قبا میں وہ قد بالا سے تھی

کیفیت اس کی قبا میں وہ قدِ بالا سے تھی
گفتگو ساحل کی اک ٹھہرے ہوئے دریا سے تھی
زاویے کیا کیا دِئیے تھے تیرے رخ کو شوق نے
انجمن سی انجمن تھی،۔ اور دلِ تنہا سے تھی
جادۂ بے میل و منزل وقت کا اک خواب تھا
رہگزارِ حال بھی ملتی ہوئی فردا سے تھی

بیٹھو جی کا بوجھ اتاریں دونوں وقت یہیں ملتے ہیں

بیٹھو جی کا بوجھ اتاریں دونوں وقت یہیں ملتے ہیں
دور دور سے آنے والے رستے کہیں کہیں ملتے ہیں
وہم بھی ہو جاتا ہے دل کو لیکن اس میں تعجب کیا ہے
ایسے دشت کہ جن میں شمعیں آپ ہی آپ جلیں، ملتے ہیں
گہرے سرخ گلاب کا اندھا بلبل سانپ کو کیا دیکھے گا
پاس ہی اگتی ناگ پھنی تھی، سارے پھول وہیں ملتے ہیں

آمد گل سے جنوں کی ایک آسانی جو تھی

آمدِ گل سے جنوں کی ایک آسانی جو تھی
تازہ کر دی میں نے رسمِ چاک دامانی جو تھی
آپ اپنی محویت میں کیا کمالِ حسن تھی
خال و خط میں اسکے اک خوابوں کی حیرانی جو تھی
بُوےۓ گل میں پردۂ خلوت سا کوئی رمز تھا
رنگِ مے سے ہے، لبوں کی اک سخن دانی جو تھی

سنبھل نہ پائے تو تقصیر واقعی بھی نہیں

سنبھل نہ پائے تو تقصیر واقعی بھی نہیں
ہر اک پہ سہل کچھ آدابِ مۓ کشی بھی نہیں
اِدھر اُدھر سے حدیثِ غمِ جہاں کہہ کر 
تِری ہی بات کی اور تیری بات کی بھی نہیں
وفائے وعدہ پہ دل نکتہ چیں ہے وہ خاموش
حدیثِ مہر و وفا آج گفتنی بھی نہیں

Monday, 1 August 2016

ایک ہی شہر میں رہتے بستے کالے کاسوں دور رہا

ایک ہی شہر میں رہتے بستے کالے کاسوں دور رہا
اس غم سے ہم اور بھی ہارے وہ بھی تو مجبور رہا
کال تھا اشکوں کا آنکھوں میں لیکن تیری یاد نہ پوچھ
کیا کیا موتی میں بھی فراہم کرنے پر مجبور رہا
وہ اور اتنا پریشاں خاطر ربط غیر کی بات نہیں
لیکن اس کے چپ رہنے سے دل کو وہم ضرور رہا

Monday, 21 December 2015

نقشے اسی کے دل میں ہیں اب تک کھنچے ہوئے

نقشے اسی کے دل میں ہیں اب تک کھنچے ہوئے
وہ دورِ عشق تھا کہ بڑے معرکے ہوئے
اتنا تو تھا کہ وہ بھی مسافر نواز تھے
مجنوں کے ساتھ تھے جو بگولے لگے ہوئے
آئی ہے اس سے پچھلے پہر گفتگو کی یاد
وہ خلوتِ وصال، وہ پردے چھَٹے ہوئے

خواب اندر خواب گردش میں رہا

شاخِ مرجاں

خواب اندر خواب گردش میں رہا
تیرا چہرہ، تیرا آب اندام جسم
عقربِ ساعت سی لرزش میں رہا
ان تہوں میں بھی رہا گستاخ دست
غوطہ زن ہوکر غمِ دوراں بہت
تیرے پرتو نے نہیں کھائی شکست

Wednesday, 16 April 2014

تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی

تازہ ہوا بہار کی، دل کا ملال لے گئی
پائے جنوں سے حلقۂ گردش حال لے گئی
جرأتِ شوق کے سوا، خلوتیانِ خاص کو
اِک تیرے غم کی آگہی، تا بہ سوال لے گئی
شعلۂ دل بُجھا بُجھا، خاک زباں اُڑی اُڑی
دشتِ ہزار دام سے، موجِ خیال لے گئی

صلیب و دار کے قصے رقم ہوتے ہی رہتے ہیں

صلیب و دار کے قصے رقم ہوتے ہی رہتے ہیں​
قلم کی جنبشوں پر سر قلم ہوتے ہی رہتے ہیں ​
یہ شاخِ گل ہے، آئینِ نمو سے آپ واقف ہے ​
سمجھتی ہے، کہ موسم کے ستم ہوتے ہی رہتے ہیں​
کبھی تیری، کبھی دستِ جنوں کی بات چلتی ہے​
یہ افسانے تو زُلفِ خم بہ خم ہوتے ہی رہتے ہیں ​

نم خوردہ بہت شعلہ جاں ہے کہ نہیں ہے

نم خوردہ بہت شعلۂ جاں ہے کہ نہیں ہے
ہر موجِ نفس آج دھواں ہے کہ نہیں ہے
نازک ہیں بہت اس کے خط و خال کی باتیں
محضر بھی کوئی پردگیاں ہے کہ نہیں ہے
احوال بھی پوچھا تو حریفانِ جنوں نے
اب داد طلب وحشتِ جاں ہے کہ نہیں ہے

کیا ہوئے باد بیاباں کے پکارے ہوئے لوگ

کیا ہوئے، باد بیاباں کے پکارے ہوئے لوگ
چاک در چاک، گریباں کو سنوارے ہوئے لوگ
خوں ہوا دل، کہ پشیمانِ صداقت ہے وفا
خوش ہوا جی، کہ چلو آج تمہارے ہوئے لوگ
یہ بھی کیا رنگ ہے اے نرگسِ خواب آلودہ
شہر میں سب ترے جادو کے ہیں مارے ہوئے لوگ

فراق سے بھی گئے ہم وصال سے بھی گئے

فراق سے بھی گئے ہم وصال سے بھی گئے
سبک ہوئے ہیں تو عیش ملال سے بھی گئے
جو بتکدے میں تھے وہ صاحبانِ کشف و کمال
حرم میں آئے تو کشف و کمال سے بھی گئے
اسی نگاہ کی نرمی سے ڈگمگائے قدم
اسی نگاہ کے تیور سنبھال سے بھی گئے