کیفیت اس کی قبا میں وہ قدِ بالا سے تھی
گفتگو ساحل کی اک ٹھہرے ہوئے دریا سے تھی
زاویے کیا کیا دِئیے تھے تیرے رخ کو شوق نے
انجمن سی انجمن تھی،۔ اور دلِ تنہا سے تھی
جادۂ بے میل و منزل وقت کا اک خواب تھا
رہگزارِ حال بھی ملتی ہوئی فردا سے تھی
وہ بھی سنگِ محتسب کی نذر آخر ہو گئی
روشنی باقی جو کل تک شعلۂ مِینا سے تھی
ایک دنیا ذوقِ آرائش کا تھی ساماں جسے
گفتگو بھی تھی تو ایسے انجمن آرا سے تھی
جنبشِ دل میں کوئی صوتِ جنوں انگیز تھی
یا خرامِ یار سے، یا جنبشِ صہبا سے تھی
صبح سے پہلے رخِ جاناں پہ جو روداد تھی
پھر نہ آئی جو شکستِ رنگ کی اِنشا سے تھی
سرمہ سا آنکھوں میں تھی جاگی ہوئی روحِ وصال
درمیاں اک ہجر کی شب رنجشِ بے جا سے تھی
عالمِ شب اس کی خوۓ قرب کا کہتی رہی
وہ حکایت زلف کی جو نکہتِ رسوا سے تھی
عزیز حامد مدنی
گفتگو ساحل کی اک ٹھہرے ہوئے دریا سے تھی
زاویے کیا کیا دِئیے تھے تیرے رخ کو شوق نے
انجمن سی انجمن تھی،۔ اور دلِ تنہا سے تھی
جادۂ بے میل و منزل وقت کا اک خواب تھا
رہگزارِ حال بھی ملتی ہوئی فردا سے تھی
وہ بھی سنگِ محتسب کی نذر آخر ہو گئی
روشنی باقی جو کل تک شعلۂ مِینا سے تھی
ایک دنیا ذوقِ آرائش کا تھی ساماں جسے
گفتگو بھی تھی تو ایسے انجمن آرا سے تھی
جنبشِ دل میں کوئی صوتِ جنوں انگیز تھی
یا خرامِ یار سے، یا جنبشِ صہبا سے تھی
صبح سے پہلے رخِ جاناں پہ جو روداد تھی
پھر نہ آئی جو شکستِ رنگ کی اِنشا سے تھی
سرمہ سا آنکھوں میں تھی جاگی ہوئی روحِ وصال
درمیاں اک ہجر کی شب رنجشِ بے جا سے تھی
عالمِ شب اس کی خوۓ قرب کا کہتی رہی
وہ حکایت زلف کی جو نکہتِ رسوا سے تھی
عزیز حامد مدنی
No comments:
Post a Comment