Showing posts with label مظفر وارثی. Show all posts
Showing posts with label مظفر وارثی. Show all posts

Saturday, 27 July 2024

قلم سے لوح سے بھی قبل دن سے رات سے پہلے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قلم سے لوح سے بھی قبل دن سے رات سے پہلے

نبیﷺ کا نور تھا موجود، موجودات سے پہلے

تلاوت دیدۂ آدم نے کی اسمِ محمدﷺ کی

ستونِ عرش پر کندہ تھا التحیات سے پہلے

وہی تھے صرف جو تلوار لے کر غار سے نکلے

پیمبرؐ، یوں نہ صف آرأ ہوئے، غزوات سے پہلے

Thursday, 4 July 2024

آبروئے زمین شرح ایمان و دین

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آبروئے زمین، شرحِ ایمان و دین

اشرف العالمین، عینِ عل و یقین

صدق و صادق امین، عرش و سدرہ نشین

اعمل العامیلین، اکرم الاکرمین

اطہر الطاہرین، دور رس دور بین

سید العارفین، قائد مرسلین

Tuesday, 7 May 2024

میں اس زمانے کا منتظر ہوں زمانہ جب بے مثال ہو گا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میں اُس زمانے کا منتظر ہوں، زمانہ جب بے مثال ہو گا

ہر ایک مسجد مدینہ ہو گی، ہر اک مؤذن بلالؓ ہو گا

چمک اٹھے گر ضمیر اپنے، جو ہو گئے ہم اسیر اپنے

ہر ایک آہٹ چراغ ہو گی، ہر ایک سایہ ہلال ہو گا

حضورؐ کے آئینے اٹھا کر، چلے جو پہچانے جائیں گے ہم

سفارشِ عشقِ مصطفیٰؐ سے ہمارا باطن بحال ہو گا

Friday, 13 October 2023

چلے نہ ایمان اک قدم بھی اگر ترا ہمسفر نہ ٹھہرے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


چلے نہ ایمان اک قدم بھی اگر تِراؐ ہمسفر نہ ٹھہرے

تِراؐ حوالہ دیا نہ جائے تو زندگی معتبر نہ ٹھہرے

حقیقتِ بندگی کی راہیں مدینہ طیبہ سے گزریں

ملے نہ اس شخص کو خدا بھی جو تیریؐ دہلیز پر نہ ٹھہرے

کُھلی ہوں آنکھیں کہ نیند والی، نہ جائے کوئی بھی سانس خالی

درودؐ جاری رہے لبوں پر، یہ سلسلہ لمحہ بھر نہ ٹھہرے

Saturday, 29 July 2023

جہاں بھی ہو وہیں سے دو صدا سرکار سنتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جہاں بھی ہو، وہیں سے دو صدا، سرکارؐ سُنتے ہیں

سرِ آئینہ سُنتے ہیں، پسِ دیوار سُنتے ہیں

مِرا ہر سانس اُن کی آہٹوں کے ساتھ چلتا ہے

مِرے دل کے دھڑکنے کی بھی وہ رفتار سُنتے ہیں

کھڑے رہتے ہیں اہلِ تخت بھی دہلیز پر اُن کی

فقیروں کی صدائیں بھی شہِ ابرارﷺ سُنتے ہیں

Wednesday, 5 July 2023

تیری خوشبو میری چادر ورفعنا لک ذکرک

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک 


تیری خوشبو، میری چادر

تیرے تیور، میرا زیور

تیرا شیوہ، میرا مسلک 

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک

میری منزل، تیری آہٹ 

Friday, 28 April 2023

ہر بات اک صحیفہ تھی امی رسول کی

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


ہر بات اک صحیفہ تھی اُمّی رسولﷺ کی 

الفاظ تھے خُدا کے ، زباں تھی رسولﷺ کی

وحدانیت کے پھول کھلے گرم ریت سے 

دی سنگِ بے زباں نے گواہی رسولﷺ کی 

بہبودی و فلاح کے جگنو نکل پڑے 

تاریکیوں میں جب کھلی مٹی رسولﷺ کی 

Sunday, 11 December 2022

مر کے اپنی ہی اداؤں پہ امر ہو جاؤں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


‎مر کے اپنی ہی اداؤں پہ امر ہو جاؤں

‎اُنؐ کی دہلیز کے قابل میں اگر ہو جاؤں

‎اُنؐ کی راہوں پہ مجھے اتنا چلانا یا رب

‎کہ سفر کرتے ہوئے گردِ سفر ہو جاؤں

‎زندگی نے تو سمندر میں مجھے پھینک دیا

‎اپنی مُٹھی میں وہؐ لے لیں تو گوہر ہو جاؤں

Friday, 16 September 2022

رخ مصطفیٰ کو دیکھا تو دیوں نے جلنا سیکھا

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


رخِ مصطفیٰﷺ کو دیکھا تو دِیوں نے جلنا سیکھا

یہ کرم ہے مصطفیٰؐ کا، شب غم میں ڈھلنا سیکھا

یہ زمیں رکی ہوئی تھی،۔ یہ فلک تھما ہوا تھا

چلے جب میرے محمدﷺ تو جہاں نے چلنا سیکھا

بڑا خوش نصیب ہوں میں میری خوش نصیبی دیکھو

شاہ انبیاءﷺ کے ٹکڑوں پہ ہے میں نے پلنا سیکھا

Thursday, 1 September 2022

اے خدا ذات کا اپنی مجھے عرفاں ہو جائے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


اے خدا ذات کا اپنی مجھے عرفاں ہو جائے

میری ہر سانس تیرے تابعِ فرماں ہو جائے

چند شمعیں فروزاں ہے میرے سینے میں

روشنی دے مجھے اتنی کہ چراغاں ہو جائے

صرف دو زاویوں سے خود کو ہمیشہ دیکھوں

زندگی آئینۂ سنت و قرآں ہو جائے

Friday, 26 August 2022

قدم قدم پہ خدا کی مدد پہنچتی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


قدم قدم پہ خدا کی مدد پہنچتی ہے

درود سے میرے دل کو رسد پہنچتی ہے

یہ آسماں بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا

جہاں تک آپ کے قدموں کی حد پہنچتی ہے

سر اپنا پائے رسالت مابؐ پر رکھ دوں

تو آسماں پہ بلندئ قد پہنچتی ہے

Friday, 19 August 2022

جل رہا ہے محمد کی دہلیز پر دل کو طاق حرم کی ضرورت نہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جل رہا ہے محمدﷺ کی دہلیز پر، دل کو طاقِ حرم کی ضرورت نہیں

میرے آقاؐ کے مجھ پر ہیں اتنے کرم اب کسی کے کرم کی ضرورت نہیں

ہر طلوعِ سحر جن کے سائے تلے، جن کی آہٹ سے نبضِ دو عالم چلے

اُنِ کے قدموں سے لگ کر ہوں بیٹھا ہوا مجھ کو جاہ و حشم کی ضرورت نہیں

حُسنِ خلاقِ کون و مکاں دیکھ لوں، جو نہ دیکھا کبھی وہ سماں دیکھ لوں

مجھ کو آئینۂ مصطفٰےؐ چاہیے، پتھروں کے صنم کی ضرورت نہیں

Thursday, 18 August 2022

کاش مداح پیمبر کا لقب مل جائے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ایک بے نام کو اعزازِ نسب مل جائے

کاش مدّاحِ پیمبرﷺ کا لقب مل جائے

میری پہچان کسی اور حوالے سے نہ ہو

اقتدارِ درِ سلطانِ عربﷺ مل جائے

آدمی کو وہاں کیا کچھ نہیں ملتا ہو گا

سنگریزوں کو جہاں جنبشِ لب مل جائے

Friday, 22 July 2022

دفن جو صدیوں تلے ہے وہ خزانہ دے دے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


دفن جو صدیوں تلے ہے وہ خزانہ دے دے

ایک لمحے کو مجھے اپنا زمانہ دے دے

چھاپ دے اپنے خد و خال مِری آنکھوں پر

پھر رہائش کے لیے آئینہ خانہ دے دے

اور کچھ تجھ سے نہیں مانگتا میرے آقاؐ

نا رسائی کو زیارت کا بہانہ دے دے

تو کجا من کجا تو کجا من کجا

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


تو کجا من کجا


تُو امیر حرم، میں فقیرعجم

تیرے گُن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب

تُو عطا ہی عطا، میں خطا ہی خطا

تُو کُجا من کُجا، تُو کُجا من کُجا


تُو ابد آفریں، میں ہوں دو چار پل

Wednesday, 30 March 2022

محبت کا دھواں آنکھوں میں پانی چھوڑ جاتا ہے

 محبت کا دھواں آنکھوں میں پانی چھوڑ جاتا ہے

کسی رستے سے غم گزرے نشانی چھوڑ جاتا ہے

وہ جتنی بار بھی ملتا ہے، پہچانا نہیں کرتا

مگر آنکھوں میں تصویریں پرانی چھوڑ جاتا ہے

اسی باعث تو ہم بے ساختہ ہنسنے سے ڈرتے ہیں

کبھی کا قہقہہ بھی نوحہ خوانی چھوڑ جاتا ہے

Friday, 25 March 2022

تصور سے بھی آگے تک در و دیوار کھل جائیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


تصور سے بھی آگے تک در و دیوار کُھل جائیں

میری آنکھوں پہ بھی یا رب تیرے اسرار کھل جائیں

میں تیری رحمتوں کے ہاتھ خود کو بیچنے لگوں

مِری تنہائیوں میں عشق کے بازار کھل جائیں

جوارِ عرشِ اعظم اس قدر مجھ کو عطا کردے

مِرے اندر کے غاروں پر تِرے انوار کھل جائیں

Sunday, 26 December 2021

گل میں خوشبو تری سورج میں اجالا تیرا

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


گُل میں خوشبو تِری، سورج میں اجالا تیرا

پائے ہر شے میں تجھے ڈھونڈنے والا تیرا

کس کی تعمیر و ترقی میں تِرا ہات نہیں

لغزشِ پا کا مداوا تو کوئی بات نہیں

روک لے گرتی فصیلوں کو سنبھالا تیرا

بے سفینہ بھی وہ لہروں پہ ٹھہر سکتا ہے

Monday, 20 December 2021

ایک بے نام کو اعزاز نسب مل جائے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ایک بے نام کو اعزازِ نسب مل جائے

کاش مداحِ پیمبرﷺ کا لقب مل جائے

میری پہچان کسی اور حوالے سے نہ ہو

اقتدارِ درِ سلطانِ عربﷺ مل جائے

آدمی کو وہاں کیا کچھ نہیں ملتا ہو گا

سنگریزوں کو جہاں جنبشِ لب مل جائے

Friday, 17 December 2021

مجھ کو عشق نبی اس قدر مل گیا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی 

مجھ کو عشقِ نبیﷺ اس قدر مل گیا

جگمگائے نہ کیوں میرا عکسِ دروں

ایک پتھر کو آئینہ گر مل گیا


جس کی رحمت سے تقدیرِ انساں کُھلے

اسؐ کی جانب ہی دروازہء جاں کُھلے