عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی
مجھ کو عشقِ نبیﷺ اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں میرا عکسِ دروں
ایک پتھر کو آئینہ گر مل گیا
جس کی رحمت سے تقدیرِ انساں کُھلے
اسؐ کی جانب ہی دروازہء جاں کُھلے
جانے عمرِ رواں لے کے جاتی کہاں
خیر سے مجھ کو خیر البشرﷺ مل گیا
محورِ دو جہاں ذات سرکار کی
اور مِری حیثیت ایک پرکار کی
اسؐ کی اِک رہگزر طے نہ ہو عمر بھر
قبلۂ آرزوﷺ تو مگر مل گیا
اسؐ کا دیوانہ ہوں، اس کا مجذوب ہوں
کیا یہ کم ہے کہ میں اسؐ سے منسوب ہوں
سرحدِ حشر تک جاؤں گا بے دھڑک
مجھ تو اتنا تو زادِ سفر مل گیا
جس طرف سے بھی گزریں مِری خواہشیں
مجھ سے بچ کر نکلتیں رہیں لغزشیں
جب جھکائی نظر، جھک گیا میرا سر
نقشِ پا اسﷺ کا ہر موڑ پر مل گیا
ذہن بے رنگ تھا، سانس بے روپ تھی
روح پر معصیت کی کڑی دھوپ تھی
اسﷺ کی چشمِ غنی رونقِ جاں بنی
چھاؤں جس کی گھنی وہ شجر مل گیا
جب سے مجھ پر ہُوا مصطفیٰؐ کا کرم
بن گیا دل مظفر چراغِ حرم
زندگی پھر رہی تھی بھٹکتی ہوئی
میری خانہ بدوشی کو گھر مل گیا
مظفر وارثی
No comments:
Post a Comment