Showing posts with label افسر صدیقی. Show all posts
Showing posts with label افسر صدیقی. Show all posts

Friday, 25 February 2022

اب اپنی جفا یاد نہ عاشق کی وفا یاد

اب اپنی جفا یاد نہ عاشق کی وفا یاد

او بھولنے والے تجھے کچھ بھی نہ رہا یاد

جب دل سے اٹھائے نہ گئے ظلم بتوں کے

آیا اسے فریاد کے پردے میں خدا یاد

آگے تِرے دم بھول گئے چارہ گر ایسا

جینے کی دوا یاد نہ مرنے کی دعا یار

Wednesday, 5 January 2022

یہ نہ پوچھو کس طرح حاصل ہوا کیونکر ملا

 یہ نہ پوچھو کس طرح حاصل ہوا کیونکر مِلا

جستجو کام آ گئی میری،۔ تو ان کا در ملا

دل بھی ملتا اور آنکھیں بھی تو تھا ملنے کا لطف

یوں تو ملنے کے لیے یہ بے وفا اکثر ملا

حسن والوں میں تھا جلوہ کس کے حسنِ پاک کا

جو ملا عمدہ ملا،۔ اچھا ملا،۔ بہتر ملا

Friday, 10 December 2021

روئے حضرت سے اگر نور نہ پایا ہوتا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


رُوئے حضرتؐ سے اگر نور نہ پایا ہوتا

دونوں عالم میں اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا

یوسفؑ مصر میں سب کچھ سہی لیکن اک بار

اے زلیخا مِرے یوسف کو بھی دیکھا ہوتا

خیر سے امتِ عاصی کی شفاعت کر لی

ورنہ کیا جانیے کیا حشر ہمارا ہوتا

Thursday, 9 December 2021

تجلی تم سے ممکن ہو تو کاشانہ میں رکھ دینا

 تجلی تم سے ممکن ہو تو کاشانہ میں رکھ دینا

چراغِ آرزو دل کے سِیہ خانہ میں رکھ دینا

مجھے یہ چشمۂ حیواں کے پانی سے زیادہ ہے

تم اپنے منہ کی جُوٹھی میرے پیمانہ میں رکھ دینا

کسی کی دلربا تصویر کہتی ہے اشاروں سے

صنم خانہ کی زینت ہوں صنم خانہ میں رکھ دینا

Wednesday, 23 December 2020

جب چشم اشتیاق سے پردہ کرے کوئی

 جب چشم اشتیاق سے پردا کرے کوئی

اے شوقِ دید تُو ہی بتا کیا کرے کوئی

اک ایک موئے تن ہے زبانِ کرم طلب

کیا بندوبستِ جوشِ تمنا کرے کوئی

میں سر سے پاؤں تک ہوں سراپائے آرزو

وہ شکل ہو گئی ہے کہ دیکھا کرے کوئی