اب اپنی جفا یاد نہ عاشق کی وفا یاد
او بھولنے والے تجھے کچھ بھی نہ رہا یاد
جب دل سے اٹھائے نہ گئے ظلم بتوں کے
آیا اسے فریاد کے پردے میں خدا یاد
آگے تِرے دم بھول گئے چارہ گر ایسا
جینے کی دوا یاد نہ مرنے کی دعا یار
اب اپنی جفا یاد نہ عاشق کی وفا یاد
او بھولنے والے تجھے کچھ بھی نہ رہا یاد
جب دل سے اٹھائے نہ گئے ظلم بتوں کے
آیا اسے فریاد کے پردے میں خدا یاد
آگے تِرے دم بھول گئے چارہ گر ایسا
جینے کی دوا یاد نہ مرنے کی دعا یار
یہ نہ پوچھو کس طرح حاصل ہوا کیونکر مِلا
جستجو کام آ گئی میری،۔ تو ان کا در ملا
دل بھی ملتا اور آنکھیں بھی تو تھا ملنے کا لطف
یوں تو ملنے کے لیے یہ بے وفا اکثر ملا
حسن والوں میں تھا جلوہ کس کے حسنِ پاک کا
جو ملا عمدہ ملا،۔ اچھا ملا،۔ بہتر ملا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
رُوئے حضرتؐ سے اگر نور نہ پایا ہوتا
دونوں عالم میں اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا
یوسفؑ مصر میں سب کچھ سہی لیکن اک بار
اے زلیخا مِرے یوسف کو بھی دیکھا ہوتا
خیر سے امتِ عاصی کی شفاعت کر لی
ورنہ کیا جانیے کیا حشر ہمارا ہوتا
تجلی تم سے ممکن ہو تو کاشانہ میں رکھ دینا
چراغِ آرزو دل کے سِیہ خانہ میں رکھ دینا
مجھے یہ چشمۂ حیواں کے پانی سے زیادہ ہے
تم اپنے منہ کی جُوٹھی میرے پیمانہ میں رکھ دینا
کسی کی دلربا تصویر کہتی ہے اشاروں سے
صنم خانہ کی زینت ہوں صنم خانہ میں رکھ دینا
جب چشم اشتیاق سے پردا کرے کوئی
اے شوقِ دید تُو ہی بتا کیا کرے کوئی
اک ایک موئے تن ہے زبانِ کرم طلب
کیا بندوبستِ جوشِ تمنا کرے کوئی
میں سر سے پاؤں تک ہوں سراپائے آرزو
وہ شکل ہو گئی ہے کہ دیکھا کرے کوئی