تمہارے جانے کا ہم کو ملال تھوڑی ہے
اداسیوں میں تمہارا خیال تھوڑی ہے
مناؤں کس طرح ہولی میں دوستوں کے ساتھ
ہیں سب کے ہاتھ میں خنجر گلال تھوڑی ہے
مجھے یہ غم ہے وہ اب ساتھ ہے رقیبوں کے
یہ آنکھ اس کے بچھڑنے سے لال تھوڑی ہے
تمہارے جانے کا ہم کو ملال تھوڑی ہے
اداسیوں میں تمہارا خیال تھوڑی ہے
مناؤں کس طرح ہولی میں دوستوں کے ساتھ
ہیں سب کے ہاتھ میں خنجر گلال تھوڑی ہے
مجھے یہ غم ہے وہ اب ساتھ ہے رقیبوں کے
یہ آنکھ اس کے بچھڑنے سے لال تھوڑی ہے
غور سے مجھ کو دیکھتا ہے کیا
میرے چہرے پہ کچھ لکھا ہے کیا
میری آنکھوں میں جھانکتا ہے کیا
تجھ کو ان میں ہی ڈوبنا ہے کیا
میرے ہونٹوں کو چھو لیا اس نے
کیا بتاؤں مجھے ہُوا ہے کیا
چھُو سکوں تجھ کو یہ اوقات کبھی تو ہو گی
اور میسر بھی تِری ذات کبھی تو ہو گی
چاند کے ساتھ میں جو چھت پہ کبھی گزرے گی
ساتھ تم اور وہ حسیں رات کبھی تو ہو گی
ایک مدت سے یہی آس لیے بیٹھا ہوں
تجھ میں بھی شدتِ جذبات کبھی تو ہو گی
کیا خبر کس کو کب کہاں دے دے
اور دے دے تو دو جہاں دے دے
ہے یہی عشق کی نماز کا وقت
ہجر! اُٹھ جا، ذرا اذاں دے دے
یہ جو بچے ہوا میں کودتے ہیں
ان کے ہاتھوں میں آسماں دے دے
ہم جو دیوار پہ تصویر بنانے لگ جائیں
تتلیاں آ کے تِرے رنگ چرانے لگ جائیں
پھر نہ ہو مخملی تکیے کی ضرورت مجھ کو
تیرے بازو جو کبھی میرے سرہانے لگ جائیں
چاند تاروں میں بھی تب نور اضافی ہو جائے
چھت پہ جب ذکر تِرا یار سنانے لگ جائیں