Showing posts with label نادم ندیم. Show all posts
Showing posts with label نادم ندیم. Show all posts

Sunday, 13 June 2021

تمہارے جانے کا ہم کو ملال تھوڑی ہے

 تمہارے جانے کا ہم کو ملال تھوڑی ہے

اداسیوں میں تمہارا خیال تھوڑی ہے

مناؤں کس طرح ہولی میں دوستوں کے ساتھ

ہیں سب کے ہاتھ میں خنجر گلال تھوڑی ہے

مجھے یہ غم ہے وہ اب ساتھ ہے رقیبوں کے

یہ آنکھ اس کے بچھڑنے سے لال تھوڑی ہے

Friday, 11 June 2021

غور سے مجھ کو دیکھتا ہے کیا

 غور سے مجھ کو دیکھتا ہے کیا

میرے چہرے پہ کچھ لکھا ہے کیا

میری آنکھوں میں جھانکتا ہے کیا

تجھ کو ان میں ہی ڈوبنا ہے کیا

میرے ہونٹوں کو چھو لیا اس نے

کیا بتاؤں مجھے ہُوا ہے کیا

Thursday, 10 June 2021

چھو سکوں تجھ کو یہ اوقات کبھی تو ہو گی

 چھُو سکوں تجھ کو یہ اوقات کبھی تو ہو گی 

اور میسر بھی تِری ذات کبھی تو ہو گی 

چاند کے ساتھ میں جو چھت پہ کبھی گزرے گی 

ساتھ تم اور وہ حسیں رات کبھی تو ہو گی 

ایک مدت سے یہی آس لیے بیٹھا ہوں 

تجھ میں بھی شدتِ جذبات کبھی تو ہو گی 

Friday, 4 June 2021

کیا خبر کس کو کب کہاں دے دے

 کیا خبر کس کو کب کہاں دے دے

اور دے دے تو دو جہاں دے دے

ہے یہی عشق کی نماز کا وقت

ہجر! اُٹھ جا، ذرا اذاں دے دے

یہ جو بچے ہوا میں کودتے ہیں

ان کے ہاتھوں میں آسماں دے دے

Thursday, 7 January 2021

ہم جو دیوار پہ تصویر بنانے لگ جائیں

 ہم جو دیوار پہ تصویر بنانے لگ جائیں

تتلیاں آ کے تِرے رنگ چرانے لگ جائیں

پھر نہ ہو مخملی تکیے کی ضرورت مجھ کو

تیرے بازو جو کبھی میرے سرہانے لگ جائیں

چاند تاروں میں بھی تب نور اضافی ہو جائے

چھت پہ جب ذکر تِرا یار سنانے لگ جائیں