Showing posts with label انور جمال انور. Show all posts
Showing posts with label انور جمال انور. Show all posts

Friday, 30 December 2016

خیال و خواب میں جب اس پری کو دیکھتا ہوں

خیال و خواب میں جب اس پری کو دیکھتا ہوں
پلٹ کے گزری ہوئی زندگی کو دیکھتا ہوں
سنا ہے آج وہ آئے گا شام ڈھلتے ہی
فلک سے آتی ہوئی روشنی کو دیکھتا ہوں
میں دیکھتا ہوں مجھے کوئی دیکھتا ہے بہت
مگر میں دور کسی اور ہی کو دیکھتا ہوں

وہ سب یزید ان کے چہیتے یزید ہیں

وہ سب یزید، ان کے چہیتے یزید ہیں
کرتے ہیں قتلِ عام جو، سارے یزید ہیں
کچھ لوگ کھل کے سامنے آۓ ہوۓ ہیں اور
کچھ نام کے حسین ہیں، ویسے یزید ہیں
اوپر سے کچھ ہیں سنی و دیوبند، کچھ شیعہ
اندر سے جھانکیے جو تو پکے یزید ہیں

کیا ہے دوزخ کیا ہے جنت ایک بوتل اور دو

کیا ہے دوزخ، کیا ہے جنت، ایک بوتل اور دو
سب بتا دوں گا حقیقت، ایک بوتل اور دو
آسماں کی سیر کر لیتا ہوں میں پینے کے بعد
مجھ کو ہوتی ہے بشارت، ایک بوتل اور دو
بِن پیے دیکھوں تو یہ سب جھوٹ لگتا ہے مجھے 
معجزہ،۔ القا،۔ کرامت،۔ ایک بوتل اور دو

بس چراغوں کو بجھانا تھا چلے جانا تھا

بس چراغوں کو بجھانا تھا، چلے جانا تھا 
نیند میں سارا زمانہ تھا، چلے جانا تھا
پھر کسی حیلے بہانے کی ضرورت ہی نہ تھی 
تم نے گر چھوڑ کے جانا تھا، چلے جانا تھا
یہ ہے دنیا، یہاں ہر موڑ پہ دل ٹوٹتا ہے 
دل کے ٹکڑوں کو اٹھانا تھا، چلے جانا تھا

Monday, 19 December 2016

انکار بہت کرنا اقرار چھپا لینا

انکار بہت کرنا، اقرار چھپا لینا
ہے خاص ادا اس کی، اظہار چھپا لینا
الفت کی کہانی میں بدنام بہت ہیں ہم
افسانہ سنا دینا،۔ کردار چھپا لینا
یہ بعد کی باتیں ہیں جب ہونگی تو جب ہونگی
نظروں کا بدل جانا، رخسار چھپا لینا

زمین گریہ و سوز دروں ہے کرب و بلا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

زمینِ گِریہ و سوزِ دروں ہے کرب و بلا
مثالِ حق و تمیزِ جنوں ہے کرب و بلا
جنہیں کھٹکتی ہے راہِ وفا وہ پوچھتے ہیں
کہ کائنات کے سینے میں کیوں ہے کرب و بلا
اسے نہ جانو کسی ذاتی جنگ کا مسکن
جنوں کے مارے ہوؤ کیا جنوں ہے کرب و بلا

آج جذبوں کے دریچے میں ہے وہ میرے ساتھ

آج جذبوں کے دریچے میں ہے وہ میرے ساتھ
اپنے سنگھار کے شیشے میں ہے وہ میرے ساتھ
اس کے ماتا پتا باہر کسی تقریب میں ہیں
اور اندر کسی کمرے میں ہے وہ میرے ساتھ
اس کی آنکھوں میں نشہ، ہونٹوں پہ صحرا کی پیاس
ہائے بھگوان! اور ایسے میں ہے وہ میرے ساتھ

اپنے گھر میں مطمئن مسرور رہنا سیکھ لو

اپنے گھر میں مطمئن مسرور رہنا سیکھ لو
دوسروں کے گھر کے اندر جھانکنا بے کار ہے
میں جو ہوں بس میں ہوں، میں کیسا ہوں کیا ہوں، کیوں ہوں میں
میرے بارے میں کسی کا سوچنا بے کار ہے
جس کی ماں خود بد دعائيں دے، اسے جا کر کہو
اے ذلیل انساں! تِری تو ہر دعا بے کار ہے

چھیڑنا تھا سر بازار تمہارے دل کو

چھیڑنا تھا سر بازار تمہارے دل کو
تم نے پر، کر دیا ہشیار تمہارے دل کو
اس میں میں ہوں کہ کوئی اور ہے منظورِ نظر
دیکھنا ہے پسِ دیدار تمہارے دل کو
گھر کے لوگوں کی ملامت پہ نہ جانا تم بھی
پیار تو ہو گیا اک بار تمہارے دل کو

کہاں یہ چار دن کی زندگی آسان لگتی ہے

کہاں یہ چار دن کی زندگی آسان لگتی ہے
ہمارے دور میں تو خودکشی آسان لگتی ھہے
وہ اپنے ساتھ اپنی قوم کو بھی لے ڈبوتے ہیں
کچھ ایسے لوگ جن کو رہبری آسان لگتی ہے
فلک سے اس زمیں تک سینکڑوں دشواریاں ہیں اور
تمہیں سورج سے آتی روشنی آسان لگتی ہے

Friday, 16 December 2016

ایسا نہ ہو کہ ہجر کے سالوں سے جا ملیں

ایسا نہ ہو کہ ہجر کے سالوں سے جا ملیں
لمحاتِ وصل خوابوں خیالوں سے جا ملیں
اے تیرگئ شب کے مسافر! قدم نہ روک
ممکن ہے آگے چل کے اجالوں سے جا ملیں
اے کاسۂ گدائی! انا کا سوال کیا؟
آ جا ضرورتوں کے پیالوں سے جا ملیں

مت اپنوں کو اس طرح للکار مرے بچے

مت اپنوں کو اس طرح للکار مِرے بچے 
اس گھر میں نہ اٹھ جائے دیوار مِرے بچے 
مانا کہ تجھے لگتی ہے اپنی طرح دنیا 
ہر شخص نہیں سادہ، ہشیار! مِرے بچے 
مرنے کے لیے جینا اتنا ہی ضروری ہے 
جینے کے لیے خود کو مت مار مِرے بچے 

Wednesday, 15 October 2014

یہ تعلق ریت کی دیوار ہے پھر سوچ لو

یہ تعلق ریت کی دیوار ہے، پھر سوچ لو
اتنی شدت سے تمہیں کیوں پیار ہے، پھر سوچ لو
اس طرف بس میں ہی میں ہوں دوسرا کوئی نہیں
اس طرف ماں باپ ہیں، سنسار ہے، پھر سوچ لو
عشق کی بازی ہے دیکھو عشق کی بازی ہے یہ
اور اس میں جیت جانا ہار ہے، پھر سوچ لو

کچھ دنوں تک دل لگی کر کے اسے جانے دیا

کچھ دنوں تک دل لگی کر کے اسے جانے دیا
بادلوں کو سرمئ کر کے اسے جانے دیا
جانے کیسی سوچ اندھیرے میں آئی یک بہ یک
چاروں جانب روشنی کر کے اسے جانے دیا
خواہشیں کہتی تھیں اس کو روک لو جانے نہ دو
خواہشوں میں کچھ کمی کر کے اسے جانے دیا