سرشتِ حسن کا جلوہ دکھائے دیتا ہے
بھنور کے بیچ بچھڑنے کی رائے دیتا ہے
تری ہنسی میں وہ سحرِ غنائے مطرب ہے
مری فغاں کو جو نغمہ بنائے دیتا ہے
کمالِ معرفتِ عشق کی بلندی پر
یہ کون پردۂ غیبت اٹھائے دیتا ہے
سرشتِ حسن کا جلوہ دکھائے دیتا ہے
بھنور کے بیچ بچھڑنے کی رائے دیتا ہے
تری ہنسی میں وہ سحرِ غنائے مطرب ہے
مری فغاں کو جو نغمہ بنائے دیتا ہے
کمالِ معرفتِ عشق کی بلندی پر
یہ کون پردۂ غیبت اٹھائے دیتا ہے
تصویر کی تھوڑی سی وضاحت ہی تو کی ہے
ہر بات مصور نے کہاں ہم سے کہی ہے
ہو اس کو مٹانے میں اسے کیسا تأمل
دنیا یہ بھلا کون سا مشکل سے بنی ہے
مشکیزۂ ہستی پہ بہت تیر لگے ہیں
اور چاروں طرف تشنہ لبی تشنہ لبی ہے
عشق میں اور اذیت اے جگر چاہیے ہے
مجھ کو اس آگ کے دریا میں بھنور چاہیے ہے
آنکھیں مانوسِ شبِ تارِ الم ہو بھی گئیں
اور یہ دل ہے اسے اب بھی سحر چاہیے ہے
جذبۂ عشق مِرے رُخ سے تو وحشت نہ ہٹا
مجھ کو اس شوخ کی آنکھوں میں یہ ڈر چاہیے ہے
چھا چکی ہے ہر طرف اب تیرگی سو جائیے
منہ چھپائے پھر رہی ہے روشنی، سو جائیے
کیوں ابھی سے پھیرتے ہیں آپ ہونٹوں پر زباں
اور بڑھنے دیجیۓ کچھ تشنگی، سو جائیے
منتظر ہے اتنا سننے کے لیے پلکوں پہ نیند
ہم بھی سونے جا رہے ہیں آپ بھی سو جائیے