Showing posts with label سفر نقوی. Show all posts
Showing posts with label سفر نقوی. Show all posts

Friday, 8 March 2024

سرشت حسن کا جلوہ دکھائے دیتا ہے

 سرشتِ حسن کا جلوہ دکھائے دیتا ہے

بھنور کے بیچ بچھڑنے کی رائے دیتا ہے

تری ہنسی میں وہ سحرِ غنائے مطرب ہے

مری فغاں کو جو نغمہ بنائے دیتا ہے

کمالِ معرفتِ عشق کی بلندی پر

یہ کون پردۂ غیبت اٹھائے دیتا ہے

Saturday, 2 December 2023

تصویر کی تھوڑی سی وضاحت ہی تو کی ہے

 تصویر کی تھوڑی سی وضاحت ہی تو کی ہے

ہر بات مصور نے کہاں ہم سے کہی ہے

ہو اس کو مٹانے میں اسے کیسا تأمل

دنیا یہ بھلا کون سا مشکل سے بنی ہے

مشکیزۂ ہستی پہ بہت تیر لگے ہیں

اور چاروں طرف تشنہ لبی تشنہ لبی ہے

Monday, 27 November 2023

عشق میں اور اذیت اے جگر چاہیے ہے

 عشق میں اور اذیت اے جگر چاہیے ہے

مجھ کو اس آگ کے دریا میں بھنور چاہیے ہے

آنکھیں مانوسِ شبِ تارِ الم ہو بھی گئیں

اور یہ دل ہے اسے اب بھی سحر چاہیے ہے

جذبۂ عشق مِرے رُخ سے تو وحشت نہ ہٹا

مجھ کو اس شوخ کی آنکھوں میں یہ ڈر چاہیے ہے

Friday, 10 December 2021

چھا چکی ہے ہر طرف اب تیرگی سو جائیے

 چھا چکی ہے ہر طرف اب تیرگی سو جائیے

منہ چھپائے پھر رہی ہے روشنی، سو جائیے

کیوں ابھی سے پھیرتے ہیں آپ ہونٹوں پر زباں

اور بڑھنے دیجیۓ کچھ تشنگی، سو جائیے

منتظر ہے اتنا سننے کے لیے پلکوں پہ نیند

ہم بھی سونے جا رہے ہیں آپ بھی سو جائیے