چھا چکی ہے ہر طرف اب تیرگی سو جائیے
منہ چھپائے پھر رہی ہے روشنی، سو جائیے
کیوں ابھی سے پھیرتے ہیں آپ ہونٹوں پر زباں
اور بڑھنے دیجیۓ کچھ تشنگی، سو جائیے
منتظر ہے اتنا سننے کے لیے پلکوں پہ نیند
ہم بھی سونے جا رہے ہیں آپ بھی سو جائیے
جاگنے کی دیکھ کر ایسی سزائیں الاماں
آدمی سے کہہ رہا ہے آدمی؛ سو جائیے
اس سے پہلے ڈھونڈ لے وحشی زمانہ آپ کو
میری بانہوں میں سمٹ کر خامشی سو جائیے
کچھ بچا لیجے اب آنسو کل بھی رونے کے لیے
کل بھی ملنے آئیں گے کچھ ماتمی سو جائیے
وہ کمال بندگی کی منزلت کا ہو سفرؔ
خود خدا بولے ہوئی بس بندگی سو جائیے
سفر نقوی
No comments:
Post a Comment