Showing posts with label عدیل زیدی. Show all posts
Showing posts with label عدیل زیدی. Show all posts

Sunday, 7 May 2023

امین و صادق و کامل ہیں مصطفیٰ کے لقب

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


امین و صادق و کامل ہیں مصطفیٰؐ کے لقب

الف بھی، لام بھی، یٰسین بھی، خدا کا رسول 

وہ گھپ اندھیروں میں اقراء کا نور لے آیا

دُعائے حمد بھی، آمین بھی خدا کا رسول

ہمارا دین بھی، ایمان بھی خدا کا رسول

صدائے قلب بھی، قرآن بھی خدا کا رسول

Saturday, 3 December 2022

زندگی سکھ سے بسر ہو تو غزل ہوتی ہے

 زندگی سکھ سے بسر ہو تو غزل ہوتی ہے

یا کوئی خوف ہو ڈر ہو تو غزل ہوتی ہے

لکھوں نوحہ جو اسے دیکھ نہ پائیں آنکھیں

اس کے چہرے پہ نظر ہو تو غزل ہوتی ہے

نظریں نظروں سے ملا کرتی ہیں یوں تو ہر روز

ہاں کبھی خاص نظر ہو تو غزل ہوتی ہے

دائرہ فکر کا محدود نہ ہونے پائے

Saturday, 1 January 2022

ہمارا دین بھی ایمان بھی خدا کا رسول

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہمارا دِین بھی، ایمان بھی خدا کا رسولﷺ

صدائے قلب بھی، قرآن بھی خدا کا رسولؐ

کتابِ دین بھی، جز دان بھی خدا رسولؐ

خدا کی شان بھی، پہچان بھی خدا کا رسولؐ

ہے نورِ علم بھی، عرفان بھی خدا کا رسولؐ

سمجھنے والوں کو فیضان بھی خدا کا رسولؐ

Friday, 18 December 2020

پہنچتی ہے آنکھ تک نمی دل کی

آنسو


 غم کا جب کوئی منظر

ہاں بہ فیض بینائی

روح سے گزرتا ہے

دل تلک پہنچتا ہے

تب کہیں پہنچتی ہے

آنکھ تک نمی دل کی

Friday, 23 October 2020

جو روح کے سفر میں بدن کا شریک تھا

 جو روح کے سفر میں بدن کا شریک تھا

دیکھی نہ ہم نے جس کی جبیں پر کبھی شکن

وہ دل کی ایک ایک چبھن کا شریک تھا

اک لمحے کو وہ آیا تصور میں تو لگا

جیسے وہ سارے دن کی تھکن کا شریک تھا

خاموشیوں سے آج ہیں ہم محو گفتگو

Tuesday, 13 December 2016

سب چھوڑ چھاڑ گھر سے نکلنا پڑا مجھے​

بس لمحے بھر میں فیصلہ کرنا پڑا مجھے​

سب چھوڑ چھاڑ گھر سے نکلنا پڑا مجھے​

جب اپنی سرزمین نے مجھ کو نہ دی پناہ​

انجان وادیوں میں اترنا پڑا مجھے ​

پاؤں میں آبلے تھے تھکن عمر بھر کی تھی​

رکنا تھا، بیٹھنا تھا، پہ چلنا پڑا مجھے ​

بزم میں تیرے نہ ہونے کا سوال آیا بہت

بزم میں تیرے نہ ہونے کا سوال آیا بہت

تُو نہیں تھا آج، تو تیرا خیال آیا بہت

دیکھتے ہی دیکھتے شاہوں کی شاہی چھن گئی

با کمالوں پر زمانے میں زوال آیا بہت

جہل کے سائے میں گہری نیند ہم سوتے رہے

ہاں اذاں دینے کو مسجد میں بلال آیا بہت

تو جو چاہے بھی تو صیاد نہیں ہونے کے

تُو جو چاہے بھی تو صیاد نہیں ہونے کے

لب ہمارے، لبِ فریاد نہیں ہونے کے

کوئی اچھی بھی خبر کان میں آئے یا رب

ایسی خبروں سے تو دل شاد نہیں ہونے کے

تُو رہے ہم سے خفا کتنا ہی چاہے، لیکن

ہم کبھی تجھ سے تو ناشاد نہیں ہونے کے

نہاں فنا میں بقا ہے ذرا سنبھل کے چلو

نہاں فنا میں بقا ہے، ذرا سنبھل کے چلو

یہ خاک خاکِ شفا ہے، ذرا سنبھل کے چلو

ہر ایک ذہن میں اندیشہ ہائے دور دراز

ہر ایک لب پہ صدا ہے، ذرا سنبھل کے چلو

ہیں اس کی خاک کے پردے میں آسمان کئی

زمین کرب و بلا ہے، ذرا سنبھل کے چلو

ہم آفتاب سے ڈھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

ہم آفتاب سے ڈھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

خود اپنی آگ میں جلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

جو سنگ ٹوٹ نہ پائے جہاں کی کوشش سے

ہمارے غم سے پگھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

تباہیوں پہ ہماری جو کل تلک خوش تھے

سنا ہے ہاتھ وہ مَلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

نام سنتا ہوں ترا جب بھرے سنسار کے بیچ

نام سنتا ہوں تِرا جب بھرے سنسار کے بیچ

لفظ رک جاتے ہیں آ کر مِری گفتار کے بیچ

دل کی باتوں میں نہ آ یار کہ اس بستی میں

دل کی باتوں والے چنے جاتے ہیں دیوار کے بیچ

ایک ہی چہرہ کتابی نظر آتا ہے ہمیں

کبھی اشعار کے باہر کبھی اشعار کے بیچ

Friday, 12 October 2012

میں‌ اس سے قیمتی شے کوئی کھو نہیں سکتا

امی جان


میں‌ اِس سے قیمتی شے کوئی کھو نہیں سکتا

عدیلؔ ماں کی جگہ کوئی ہو نہیں‌ سکتا

مِرے خدا! یہاں درکار ہے مسیحائی

میں اپنے خُون کو اشکوں سے دھو نہیں سکتا

یہ اور بات ہے ہو جائے معجزہ کوئی

یہ غم خُوشی میں بدل جائے، ہو نہیں سکتا

رونقیں گھر میں رہیں بس اسی آواز کے ساتھ

ہم، امی اور تنہائی


رونقیں گھر میں رہیں بس اُسی آواز کے ساتھ

گو تھیں تکلیف میں‌ لیکن رہیں اعجاز کے ساتھ

بے غرض مِلتی رہیں ماں کی دُعائیں ہر دم

لوگ آواز لگاتے نہیں آواز کے ساتھ

وقتِ رُخصت بڑی رونق تھی، سو آیا یہ خیال

کون آئے گا یہاں اب مِری پرواز کے ساتھ؟

Monday, 30 July 2012

دکاندار؛ یہ تاجران دین ہیں

دُکاندار


یہ تاجرانِ دِین ہیں

خُدا کے گھر مکِین ہیں

ہر اِک خُدا کے گھر پہ ان کو اپنا نام چاہیے

خدا کے نام کے عِوض کُل انتظام چاہیے

ہر ایک چاہتا ہے یہ

Tuesday, 10 July 2012

گھر عطا کر مکاں سے کیا حاصل

 گھر عطا کر، مکاں سے کیا حاصل

صرف وہم و گماں سے کیا حاصل

بے یقینی ہی بے یقینی ہے

ایسے ارض و سماں سے کیا حاصل

آفتِ ناگہاں کو روکے کون؟

دولتِ بیکراں سے کیا حاصل