Tuesday, 13 December 2016

ہم آفتاب سے ڈھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

ہم آفتاب سے ڈھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

خود اپنی آگ میں جلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

جو سنگ ٹوٹ نہ پائے جہاں کی کوشش سے

ہمارے غم سے پگھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

تباہیوں پہ ہماری جو کل تلک خوش تھے

سنا ہے ہاتھ وہ مَلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

تمہاری راہ میں آنکھیں بچھا رہے تھے کبھی

جو آج راہ بدلتے ہیں، کچھ خبر ہے تمہیں

بلندیوں پہ نہ ڈھونڈو، کہ جوہرِ نایاب

زمیں کی گود میں پلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

زمانہ جیسے بہلتا ہے، میری جاں! ہم بھی

اسی طرح سے بہلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

ہم آبِ سیم کی مانند ساری رات عدیلؔ

بِنا تمہارے مچلتے ہیں، کچھ خبر ہے تمہیں


عدیل زیدی 

No comments:

Post a Comment