Showing posts with label راشد اطہر. Show all posts
Showing posts with label راشد اطہر. Show all posts

Monday, 1 June 2026

خود ہی مسمار کر رہا ہوں میں

 آخری وار کر رہا ہوں میں

اپنا انکار کر رہا ہوں میں

آڑ اپنے ہی جسم کی لے کر

روح کو تار کر رہا ہوں میں

اپنے دکھ بانٹ کر زمانے میں

کتنا ایثار کر رہا ہوں میں

Saturday, 29 March 2025

تری یادوں کا محشر کھینچتے ہیں

 تری یادوں کا محشر کھینچتے ہیں

چلو پھر دن کا چکر کھینچتے ہیں

سویرا آن بیٹھا ہے سروں پر

اٹھو پھر شب کی چادر کھینچتے ہیں

ہماری پیاس مثل دشت و صحرا

ہم آنکھوں سے سمندر کھینچتے ہیں

Saturday, 26 October 2024

تیری چاہت میں کمی کیسے گوارا کر لیں

 تیری چاہت میں کمی کیسے گوارا کر لیں

عشق روزی تو نہیں ہے کہ گزارا

منفعت چاہے تو الفت کو تجارت نہ بنا

جانتے بُوجھتے ہم کیسے خسارا

تُو ہواؤں کے جھپٹے میں نہ آیا ہو کہیں

دو گھڑی ٹھہر جا تیرا بھی اتارا کر لیں

Sunday, 8 September 2024

میں اپنا سر بریدہ جسم لے کر چل پڑا ہوں

 واہمہ


میں اپنا سر بریدہ جسم لے کر چل پڑا ہوں

مِرے اک ہاتھ میں سر ہے

میں اپنے سر میں ہوں یا جسم میں ہوں

کبھی میں سر میں بیٹھا سوچتا ہوں

کہ میں بے جسم رہ کر

کس طرح پہچان قائم رکھ سکوں گا