آخری وار کر رہا ہوں میں
اپنا انکار کر رہا ہوں میں
آڑ اپنے ہی جسم کی لے کر
روح کو تار کر رہا ہوں میں
اپنے دکھ بانٹ کر زمانے میں
کتنا ایثار کر رہا ہوں میں
آخری وار کر رہا ہوں میں
اپنا انکار کر رہا ہوں میں
آڑ اپنے ہی جسم کی لے کر
روح کو تار کر رہا ہوں میں
اپنے دکھ بانٹ کر زمانے میں
کتنا ایثار کر رہا ہوں میں
تری یادوں کا محشر کھینچتے ہیں
چلو پھر دن کا چکر کھینچتے ہیں
سویرا آن بیٹھا ہے سروں پر
اٹھو پھر شب کی چادر کھینچتے ہیں
ہماری پیاس مثل دشت و صحرا
ہم آنکھوں سے سمندر کھینچتے ہیں
تیری چاہت میں کمی کیسے گوارا کر لیں
عشق روزی تو نہیں ہے کہ گزارا
منفعت چاہے تو الفت کو تجارت نہ بنا
جانتے بُوجھتے ہم کیسے خسارا
تُو ہواؤں کے جھپٹے میں نہ آیا ہو کہیں
دو گھڑی ٹھہر جا تیرا بھی اتارا کر لیں
واہمہ
میں اپنا سر بریدہ جسم لے کر چل پڑا ہوں
مِرے اک ہاتھ میں سر ہے
میں اپنے سر میں ہوں یا جسم میں ہوں
کبھی میں سر میں بیٹھا سوچتا ہوں
کہ میں بے جسم رہ کر
کس طرح پہچان قائم رکھ سکوں گا