ہم نے اشکوں سے لکھی ہے یہ کہانی سنیے
درد جو دل کا ہے اشکوں کی زبانی سنیے
یاد اک پھانس ہے رہ رہ کے کسک جاتی ہے
اب کبھی پریت نہیں اتنی بڑھانی سنیے
ساتھ ہو کوئی تو چھالے بھی مزا دیتے ہیں
جیٹھ کی دھوپ بھی لگتی ہے سہانی سنیے
ان جٹاؤں سے تو بس پریم کی دھارا نکلی
میلا دنیا نے کیا گنگا کا پانی سنیے
میں تو میرا کو دیوانی نہیں کہنے والی
جس نے اپنے کو بھلایا وہ گیانی سنیے
ہلکی سی ٹھیس بھی لگ جائے تو گر سکتی ہے
میری یادوں کی حویلی ہے پرانی سنیے
مدھوریما سنگھ
No comments:
Post a Comment