Wednesday, 16 September 2026

ہم نے اشکوں سے لکھی ہے یہ کہانی سنیے

 ہم نے اشکوں سے لکھی ہے یہ کہانی سنیے

درد جو دل کا ہے اشکوں کی زبانی سنیے

یاد اک پھانس ہے رہ رہ کے کسک جاتی ہے

اب کبھی پریت نہیں اتنی بڑھانی سنیے

ساتھ ہو کوئی تو چھالے بھی مزا دیتے ہیں

جیٹھ کی دھوپ بھی لگتی ہے سہانی سنیے

ان جٹاؤں سے تو بس پریم کی دھارا نکلی

میلا دنیا نے کیا گنگا کا پانی سنیے

میں تو میرا کو دیوانی نہیں کہنے والی

جس نے اپنے کو بھلایا وہ گیانی سنیے

ہلکی سی ٹھیس بھی لگ جائے تو گر سکتی ہے

میری یادوں کی حویلی ہے پرانی سنیے


مدھوریما سنگھ

No comments:

Post a Comment