Monday, 14 September 2026

پوچھتی ہے زندگی وقت کی قیمت کیا ہے

 وقت کی قیمت کیا ہے


کیوں چہرہ دیکھتے ہیں لوگ

ہزاروں میں پہچانتے ہیں لوگ

چھپتا ہے دل ہر کس و ناکس سے

کہتے ہیں روشنی میں آ

کہا ہوا سنا

سنائیں کس طرح

طاقت گفتار ہے اب

نہ الفاظ کا وہ سحر

حوصلہ جینے کا

نہ آرزو موت کی

دوراہے پہ کھڑی

پوچھتی ہے زندگی

وقت کی قیمت کیا ہے


فیروزہ یاسمین

No comments:

Post a Comment