Showing posts with label تسنیم حسن. Show all posts
Showing posts with label تسنیم حسن. Show all posts

Saturday, 22 January 2022

دل سے تیری یاد کا اک پل جدا ہوتا نہیں

 دل سے تیری یاد کا اک پل جدا ہوتا نہیں

ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں

میں ہی میں ہوتی ہوں اپنے عالم امکان میں

تو ہی تو ہوتا ہے، کوئی دوسرا ہوتا نہیں

صبر ہی کرنا ہے اس کا شہر ہے اور شہر میں

واقعہ ہوتا نہیں،۔ یا حادثہ ہوتا نہیں

Saturday, 15 January 2022

غلط کہ میرے سر دار حوصلے ٹوٹے

 غلط کہ میرے سر دار حوصلے ٹوٹے

صلیب جسم سے سانسوں کے رابطے ٹوٹے

یہ کیسے رخ پہ بنائے مکان لوگوں نے

ہوا چلی ہے تو گھر گھر کے آئینے ٹوٹے

نہ جانے کس کی نظر روشنی کی دشمن تھی

چراغ جس میں جلے تھے وہ طاقچے ٹوٹے

Wednesday, 29 December 2021

مٹی ہوں بھیگنے دے مرے کوزہ گر ابھی

 مٹی ہوں بھیگنے دے مِرے کوزہ گر ابھی

مصروف گردشوں میں ہے دستِ ہنر ابھی

خود بڑھ کے قتل گاہ میں قاتل کے سامنے

مقتول ہو گیا ہے بہت با اثر ابھی

چہروں بھری کتاب میں ملتی نہیں ہے اب

دیکھی تھی تیری شکل کسی صفحہ پر ابھی

Tuesday, 28 December 2021

چہروں پہ کھلی دھوپ سجا کر جو گیا ہے

 چہروں پہ کھلی دھوپ سجا کر جو گیا ہے

اب شہر میں سورج بھی اسے ڈھونڈ رہا ہے

میں خوش ہوں بہت کانچ کی پوشاک پہن کر

پتھر سے جو ٹکرائی ہے وہ میری صدا ہے

وہ شخص جو آئینہ تھا چہروں کے جہاں میں

بکھرا تو کسی سے بھی سمیٹا نہ گیا ہے

Sunday, 29 August 2021

تیری مثال آنکھوں میں تمثیل ہو گئی

 تیری مثال آنکھوں میں تمثیل ہو گئی

دھڑکن ہزار رنگوں میں تبدیل ہو گئی

تیری نظر کی چھاؤں تو بادل سے کم نہ تھی

پھیلی مِری زمین پہ میں جھیل ہو گئی

کیسی بدن کی قربتیں اور کیسی چاہِ وصل

جب روح تیری روح میں تحلیل ہو گئی