دل سے تیری یاد کا اک پل جدا ہوتا نہیں
ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں
میں ہی میں ہوتی ہوں اپنے عالم امکان میں
تو ہی تو ہوتا ہے، کوئی دوسرا ہوتا نہیں
صبر ہی کرنا ہے اس کا شہر ہے اور شہر میں
واقعہ ہوتا نہیں،۔ یا حادثہ ہوتا نہیں
دل سے تیری یاد کا اک پل جدا ہوتا نہیں
ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں
میں ہی میں ہوتی ہوں اپنے عالم امکان میں
تو ہی تو ہوتا ہے، کوئی دوسرا ہوتا نہیں
صبر ہی کرنا ہے اس کا شہر ہے اور شہر میں
واقعہ ہوتا نہیں،۔ یا حادثہ ہوتا نہیں
غلط کہ میرے سر دار حوصلے ٹوٹے
صلیب جسم سے سانسوں کے رابطے ٹوٹے
یہ کیسے رخ پہ بنائے مکان لوگوں نے
ہوا چلی ہے تو گھر گھر کے آئینے ٹوٹے
نہ جانے کس کی نظر روشنی کی دشمن تھی
چراغ جس میں جلے تھے وہ طاقچے ٹوٹے
مٹی ہوں بھیگنے دے مِرے کوزہ گر ابھی
مصروف گردشوں میں ہے دستِ ہنر ابھی
خود بڑھ کے قتل گاہ میں قاتل کے سامنے
مقتول ہو گیا ہے بہت با اثر ابھی
چہروں بھری کتاب میں ملتی نہیں ہے اب
دیکھی تھی تیری شکل کسی صفحہ پر ابھی
چہروں پہ کھلی دھوپ سجا کر جو گیا ہے
اب شہر میں سورج بھی اسے ڈھونڈ رہا ہے
میں خوش ہوں بہت کانچ کی پوشاک پہن کر
پتھر سے جو ٹکرائی ہے وہ میری صدا ہے
وہ شخص جو آئینہ تھا چہروں کے جہاں میں
بکھرا تو کسی سے بھی سمیٹا نہ گیا ہے
تیری مثال آنکھوں میں تمثیل ہو گئی
دھڑکن ہزار رنگوں میں تبدیل ہو گئی
تیری نظر کی چھاؤں تو بادل سے کم نہ تھی
پھیلی مِری زمین پہ میں جھیل ہو گئی
کیسی بدن کی قربتیں اور کیسی چاہِ وصل
جب روح تیری روح میں تحلیل ہو گئی