ستم میں بھی شانِ کرم دیکھتے ہیں
ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
جہاں تک تعلق ہے عیب و خطا کا
جو اہلِ نظر ہیں وہ کم دیکھتے ہیں
تِرا انتظار اس قدر بڑھ گیا ہے
کہ ہر آنے والے کو ہم دیکھتے ہیں
ستم میں بھی شانِ کرم دیکھتے ہیں
ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
جہاں تک تعلق ہے عیب و خطا کا
جو اہلِ نظر ہیں وہ کم دیکھتے ہیں
تِرا انتظار اس قدر بڑھ گیا ہے
کہ ہر آنے والے کو ہم دیکھتے ہیں
نظروں کی ضد سے یوں تو میں غافل نہیں رہا
پہلو میں اے مشیر مگر دل نہیں رہا
اے دل! تصورات کا حاصل نہیں رہا
کوئی مِری نظر کے مقابل نہیں رہا
موجوں پہ اعتماد نہ کیونکر کرے کوئی
ساحل تو اعتبار کے قابل نہیں رہا
جب وہ میرے قریب سے ہنس کر گُزر گئے
کچھ خاص دوستوں کے بھی چہرے اُتر گئے
افسوس ڈُوبنے کی تمنا ہی رہ گئی
طوفان زندگی میں جو آئے گزر گئے
حالانکہ ان کو دیکھ کر پلٹی ہی تھی نظر
محسوس یہ ہُوا کہ زمانے گزر گئے
حوصلہ دل کا حوادث میں بڑھا رکھا ہے
شمع کو میں نے ہواؤں میں جلا رکھا ہے
دیکھ اے حسن خود آرا مِرے دل کی وسعت
تیرے غم کو غم دوراں سے جدا رکھا ہے
میں تلاطم میں بھی ساحل کی خبر رکھتا ہوں
میں نے ہر موج کو ساحل سے ملا رکھا ہے
محبت میں سحر اے دل! برائے نام آتی ہے
یہ وہ منزل ہے جس منزل میں اکثر شام آتی ہے
سفینہ جس جگہ ڈوبا تھا میرا بحرِ الفت میں
وہاں ہر موج اب تک لرزہ بر اندام آتی ہے
نہ جانے کیوں دلِ غم آشنا کو دیکھ لیتا ہوں
جہاں کانوں میں آوازِ شکستِ جام آتی ہے