Showing posts with label مشیر جھنجھانوی. Show all posts
Showing posts with label مشیر جھنجھانوی. Show all posts

Saturday, 17 September 2022

ستم میں بھی شان کرم دیکھتے ہیں

 ستم میں بھی شانِ کرم دیکھتے ہیں

ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

جہاں تک تعلق ہے عیب و خطا کا

جو اہلِ نظر ہیں وہ کم دیکھتے ہیں

تِرا انتظار اس قدر بڑھ گیا ہے

کہ ہر آنے والے کو ہم دیکھتے ہیں

Thursday, 8 September 2022

نظروں کی ضد سے یوں تو میں غافل نہیں رہا

 نظروں کی ضد سے یوں تو میں غافل نہیں رہا

پہلو میں اے مشیر مگر دل نہیں رہا

اے دل! تصورات کا حاصل نہیں رہا

کوئی مِری نظر کے مقابل نہیں رہا

موجوں پہ اعتماد نہ کیونکر کرے کوئی

ساحل تو اعتبار کے قابل نہیں رہا

Monday, 5 September 2022

جب وہ میرے قریب سے ہنس کر گذر گئے

 جب وہ میرے قریب سے ہنس کر گُزر گئے

کچھ خاص دوستوں کے بھی چہرے اُتر گئے

افسوس ڈُوبنے کی تمنا ہی رہ گئی

طوفان زندگی میں جو آئے گزر گئے

حالانکہ ان کو دیکھ کر پلٹی ہی تھی نظر

محسوس یہ ہُوا کہ زمانے گزر گئے

Sunday, 4 September 2022

حوصلہ دل کا حوادث میں بڑھا رکھا ہے

 حوصلہ دل کا حوادث میں بڑھا رکھا ہے

شمع کو میں نے ہواؤں میں جلا رکھا ہے

دیکھ اے حسن خود آرا مِرے دل کی وسعت

تیرے غم کو غم دوراں سے جدا رکھا ہے

میں تلاطم میں بھی ساحل کی خبر رکھتا ہوں

میں نے ہر موج کو ساحل سے ملا رکھا ہے

Friday, 29 July 2022

محبت میں سحر اے دل برائے نام آتی ہے

 محبت میں سحر اے دل! برائے نام آتی ہے

یہ وہ منزل ہے جس منزل میں اکثر شام آتی ہے

سفینہ جس جگہ ڈوبا تھا میرا بحرِ الفت میں

وہاں ہر موج اب تک لرزہ بر اندام آتی ہے

نہ جانے کیوں دلِ غم آشنا کو دیکھ لیتا ہوں

جہاں کانوں میں آوازِ شکستِ جام آتی ہے