Showing posts with label شیراز اختر. Show all posts
Showing posts with label شیراز اختر. Show all posts

Friday, 11 November 2022

کس نے پڑھ کر پھونکا منتر پانی میں

 کس نے پڑھ کر پھونکا منتر پانی میں

پتھر بن کے ڈوبے منظر پانی میں

پیاسا گھاٹ سے لوٹ آیا تھا پیاسا کیوں

مجھ پر راز کُھلا یہ جا کر پانی میں

جھیل اُمڈ کے چاند تلک جا پہنچی ہے

کس نے پھینکے اتنے کنکر پانی میں

Wednesday, 2 November 2022

تم کو احساس کی دولت نہیں ملنے والی

 تم کو احساس کی دولت نہیں ملنے والی

مر کے بھی مجھ کو محبت نہیں ملنے والی

کھا لیے وقت کی تلخی نے سُریلے لہجے

اب وہ پہلی سی حلاوت نہیں ملنے والی

یہ نئے دور کے بچے ہیں بڑے لگتے ہیں

ان میں معصوم شرارت نہیں ملنے والی

Tuesday, 1 November 2022

دیار بے خودی ہے اس سے آگے

 دیارِ بے خودی ہے، اس سے آگے

ابھی آوارگی ہے، اس سے آگے

لبوں میں آنسوؤں کو جذب کر لو

بلا کی تشنگی ہے، اس سے آگے

شعور و لاشعوری بھی بجا ہے

مقامِ آگہی ہے، اس سے آگے

Sunday, 16 October 2022

پتھر نہ کوئی دھول نہ کانٹا دکھائی دے

پتھر نہ کوئی دھول نہ کانٹا دکھائی دے

یہ حالت جنون بھی تماشا دکھائی دے

ہم نے نشان قبر کو آئینہ کر دیا

شاید کسی کو وقت کا چہرہ دکھائی دے

ایسا نہ ہو کہ شوق سے محروم ہی رہیں

جو کچھ ہماری آنکھ نے دیکھا دکھائی دے

Sunday, 8 August 2021

اپنی آشفتہ مزاجی کے ثمر بول پڑے

 اپنی آشفتہ مزاجی کے ثمر بول پڑے

میں جو خاموش ہوا زخمِ جگر بول پڑے

رات یادوں کے پرندوں نے بہت شور کیا

جیسے خوابیدہ جزیروں میں سحر بول پڑے

دل نے خاموش محبت کی طہارت سن لی

دمِ رخصت جو تِرے دیدۂ تر بول پڑے