کس نے پڑھ کر پھونکا منتر پانی میں
پتھر بن کے ڈوبے منظر پانی میں
پیاسا گھاٹ سے لوٹ آیا تھا پیاسا کیوں
مجھ پر راز کُھلا یہ جا کر پانی میں
جھیل اُمڈ کے چاند تلک جا پہنچی ہے
کس نے پھینکے اتنے کنکر پانی میں
کس نے پڑھ کر پھونکا منتر پانی میں
پتھر بن کے ڈوبے منظر پانی میں
پیاسا گھاٹ سے لوٹ آیا تھا پیاسا کیوں
مجھ پر راز کُھلا یہ جا کر پانی میں
جھیل اُمڈ کے چاند تلک جا پہنچی ہے
کس نے پھینکے اتنے کنکر پانی میں
تم کو احساس کی دولت نہیں ملنے والی
مر کے بھی مجھ کو محبت نہیں ملنے والی
کھا لیے وقت کی تلخی نے سُریلے لہجے
اب وہ پہلی سی حلاوت نہیں ملنے والی
یہ نئے دور کے بچے ہیں بڑے لگتے ہیں
ان میں معصوم شرارت نہیں ملنے والی
دیارِ بے خودی ہے، اس سے آگے
ابھی آوارگی ہے، اس سے آگے
لبوں میں آنسوؤں کو جذب کر لو
بلا کی تشنگی ہے، اس سے آگے
شعور و لاشعوری بھی بجا ہے
مقامِ آگہی ہے، اس سے آگے
پتھر نہ کوئی دھول نہ کانٹا دکھائی دے
یہ حالت جنون بھی تماشا دکھائی دے
ہم نے نشان قبر کو آئینہ کر دیا
شاید کسی کو وقت کا چہرہ دکھائی دے
ایسا نہ ہو کہ شوق سے محروم ہی رہیں
جو کچھ ہماری آنکھ نے دیکھا دکھائی دے
اپنی آشفتہ مزاجی کے ثمر بول پڑے
میں جو خاموش ہوا زخمِ جگر بول پڑے
رات یادوں کے پرندوں نے بہت شور کیا
جیسے خوابیدہ جزیروں میں سحر بول پڑے
دل نے خاموش محبت کی طہارت سن لی
دمِ رخصت جو تِرے دیدۂ تر بول پڑے