کبھی رستے کو روتے ہیں کبھی مشکل کو روتے ہیں
جو ناکام سفر ہوتے ہیں وہ منزل کو روتے ہیں
ذرا انداز تو دیکھے کوئی ان دل فگاروں کا
پلٹتے ہیں ورق ماضی کا مستقبل کو روتے ہیں
خدایا! کس قدر نادان ہیں یہ کشتیاں والے
سمندر پر نظر رکھتے ہیں اور ساحل کو روتے ہیں
کبھی رستے کو روتے ہیں کبھی مشکل کو روتے ہیں
جو ناکام سفر ہوتے ہیں وہ منزل کو روتے ہیں
ذرا انداز تو دیکھے کوئی ان دل فگاروں کا
پلٹتے ہیں ورق ماضی کا مستقبل کو روتے ہیں
خدایا! کس قدر نادان ہیں یہ کشتیاں والے
سمندر پر نظر رکھتے ہیں اور ساحل کو روتے ہیں
کیا سے کیا ہو گئی اس دور میں حالت گھر کی
دشت پُر نُور ہوئے بڑھ گئی ظُلمت گھر کی
سب کی دہلیزوں پہ جلتے ہیں تعصب کے چراغ
کیا کرے گا کوئی ایسے میں حفاظت گھر کی
خامشی، فرض، روایات، عنایت، ایثار
انہیں بنیادوں پہ موقوف ہے عظمت گھر کی
خیال میں تِرے پیکر کو چوم لیتے ہیں
ہم اہل ظرف ہیں پتھر کو چوم لیتے ہیں
بڑھا گئے تھے وہ عزت ہمارے گھر کی کبھی
اس احترام میں ہم در کو چوم لیتے ہیں
حیات نو کی جھلک جو ہمیں دکھاتا ہے
نظر سے ہم اسی منظر کو چوم لیتے ہیں
کس طرح رکھ لوں ساتھ کسی ہمسفر کو میں
پہچانتا ہوں خوب ہر اک معتبر کو میں
دامن میں جس کے کھیل رہی ہو شبِ سیاہ
کیسے کروں قبول بھلا اس سحر کو میں
روتا ہے دل سیاستِ عہدِ جدید پر
جب دیکھتا ہوں غم سے پریشاں بشر کو میں
کس لیے جشنِ انا محفلِ ادراک میں ہے
میری تاریخ مِرے دامنِ صد چاک میں ہے
پھر اٹھا جوشِ جنوں جذبۂ منصور لیے
پھر انا الحق کی صدا کوچۂ سفاک میں ہے
موت انجام ہے، ماحول ہے غفلت کا یہاں
وقت ہر لمحہ شکاری کی طرح تاک میں ہے
جب جب رفاقتوں سے گزرنا پڑا مجھے
پُر خار وادیوں میں اترنا پڑا مجھے
عہدِ تغیرات میں جینے کے نام پر
اپنی روایتوں سے مُکرنا پڑا مجھے
دریا کے شور و شر سے میں خائف نہ تھا مگر
ساحل کے انتشار سے ڈرنا پڑا مجھے
عورت
دنیا کے لیے تحفۂ نایاب ہے عورت
افسانۂ ہستی کا حسیں باب ہے عورت
دیکھا تھا جو آدم نے وہی خواب ہے عورت
بے مثل ہے آئینۂ آداب ہے عورت
قائم اسی عورت سے محبت کی فضا ہے
عورت کی عطا اصل میں احسان خدا ہے
رہ جنوں میں کبھی کامیاب ہم بھی تھے
کبھی حوالۂ دشت و سراب ہم بھی تھے
تِری نگاہ نے گوہر بنا دیا، ورنہ
حصار موج میں مثل حباب ہم بھی تھے
جنوں نے ہم کو بھی بخشی تھی شان دربدری
جہان فکر میں خانہ خراب ہم بھی تھے