Showing posts with label رہبر جونپوری. Show all posts
Showing posts with label رہبر جونپوری. Show all posts

Thursday, 17 August 2023

کبھی رستے کو روتے ہیں کبھی مشکل کو روتے ہیں

 کبھی رستے کو روتے ہیں کبھی مشکل کو روتے ہیں

جو ناکام سفر ہوتے ہیں وہ منزل کو روتے ہیں

ذرا انداز تو دیکھے کوئی ان دل فگاروں کا

پلٹتے ہیں ورق ماضی کا مستقبل کو روتے ہیں

خدایا! کس قدر نادان ہیں یہ کشتیاں والے

سمندر پر نظر رکھتے ہیں اور ساحل کو روتے ہیں

Friday, 11 August 2023

کیا سے کیا ہو گئی اس دور میں حالت گھر کی

 کیا سے کیا ہو گئی اس دور میں حالت گھر کی

دشت پُر نُور ہوئے بڑھ گئی ظُلمت گھر کی

سب کی دہلیزوں پہ جلتے ہیں تعصب کے چراغ

کیا کرے گا کوئی ایسے میں حفاظت گھر کی

خامشی، فرض، روایات، عنایت، ایثار

انہیں بنیادوں پہ موقوف ہے عظمت گھر کی

Sunday, 2 January 2022

خیال میں ترے پیکر کو چوم لیتے ہیں

 خیال میں تِرے پیکر کو چوم لیتے ہیں

ہم اہل ظرف ہیں پتھر کو چوم لیتے ہیں

بڑھا گئے تھے وہ عزت ہمارے گھر کی کبھی

اس احترام میں ہم در کو چوم لیتے ہیں

حیات نو کی جھلک جو ہمیں دکھاتا ہے

نظر سے ہم اسی منظر کو چوم لیتے ہیں

Monday, 29 November 2021

کس طرح رکھ لوں ساتھ کسی ہمسفر کو میں

 کس طرح رکھ لوں ساتھ کسی ہمسفر کو میں

پہچانتا ہوں خوب ہر اک معتبر کو میں

دامن میں جس کے کھیل رہی ہو شبِ سیاہ

کیسے کروں قبول بھلا اس سحر کو میں

روتا ہے دل سیاستِ عہدِ جدید پر

جب دیکھتا ہوں غم سے پریشاں بشر کو میں

Wednesday, 24 November 2021

کس لیے جشن انا محفل ادراک میں ہے

 کس لیے جشنِ انا محفلِ ادراک میں ہے

میری تاریخ مِرے دامنِ صد چاک میں ہے

پھر اٹھا جوشِ جنوں جذبۂ منصور لیے

پھر انا الحق کی صدا کوچۂ سفاک میں ہے

موت انجام ہے، ماحول ہے غفلت کا یہاں

وقت ہر لمحہ شکاری کی طرح تاک میں ہے

Tuesday, 7 September 2021

جب جب رفاقتوں سے گزرنا پڑا مجھے

 جب جب رفاقتوں سے گزرنا پڑا مجھے

پُر خار وادیوں میں اترنا پڑا مجھے

عہدِ تغیرات میں جینے کے نام پر

اپنی روایتوں سے مُکرنا پڑا مجھے

دریا کے شور و شر سے میں خائف نہ تھا مگر

ساحل کے انتشار سے ڈرنا پڑا مجھے

Monday, 4 January 2021

دنیا کے لیے تحفہ نایاب ہے عورت

 عورت


دنیا کے لیے تحفۂ نایاب ہے عورت 

افسانۂ ہستی کا حسیں باب ہے عورت 

دیکھا تھا جو آدم نے وہی خواب ہے عورت 

بے مثل ہے آئینۂ آداب ہے عورت 

قائم اسی عورت سے محبت کی فضا ہے 

عورت کی عطا اصل میں احسان خدا ہے 

Tuesday, 22 December 2020

رہ جنوں میں کبھی کامیاب ہم بھی تھے

رہ جنوں میں کبھی کامیاب ہم بھی تھے 

کبھی حوالۂ دشت و سراب ہم بھی تھے 

تِری نگاہ نے گوہر بنا دیا، ورنہ 

حصار موج میں مثل حباب ہم بھی تھے 

جنوں نے ہم کو بھی بخشی تھی شان دربدری

جہان فکر میں خانہ خراب ہم بھی تھے