آنکھ کا نیند سے رشتہ نہیں ہونے دیتا
میں تِرے خواب کو رسوا نہیں ہونے دیتا
جی تو کرتا ہے بہت پھوٹ کے رو لینے کا
میں مگر اپنا تماشہ نہیں ہونے دیتا
خود تو خاطر میں نہیں لاتا ہے مجھ کو لیکن
وہ مجھے اور کسی کا نہیں ہونے دیتا
آنکھ کا نیند سے رشتہ نہیں ہونے دیتا
میں تِرے خواب کو رسوا نہیں ہونے دیتا
جی تو کرتا ہے بہت پھوٹ کے رو لینے کا
میں مگر اپنا تماشہ نہیں ہونے دیتا
خود تو خاطر میں نہیں لاتا ہے مجھ کو لیکن
وہ مجھے اور کسی کا نہیں ہونے دیتا
قلندر تھا کوئی سلطان تھا میں
کوئی دن دشت میں مہمان تھا میں
گِرا دیکھا اٹھایا نہ کسی نے
کہ لا وارث کوئی سامان تھا میں
چھُوا تم نے تو مجھ میں جان آئی
تو کیا اتنے دنوں بے جان تھا میں
ایک سُوکھے شجر کا سایہ ہوں
میں بھی اس دُھوپ کی رعایا ہوں
مجھ کو رکھ لے سمیٹ کر دل میں
میں تِری آنکھ 👁 کا کرایہ ہوں
تُو بدن کو ٹٹولتا کیا ہے؟
میں تِری رُوح میں سمایا ہوں