Showing posts with label شرافت سمیر. Show all posts
Showing posts with label شرافت سمیر. Show all posts

Monday, 13 October 2025

آنکھ کا نیند سے رشتہ نہیں ہونے دیتا

 آنکھ کا نیند سے رشتہ نہیں ہونے دیتا

میں تِرے خواب کو رسوا نہیں ہونے دیتا

جی تو کرتا ہے بہت پھوٹ کے رو لینے کا

میں مگر اپنا تماشہ نہیں ہونے دیتا

خود تو خاطر میں نہیں لاتا ہے مجھ کو لیکن

وہ مجھے اور کسی کا نہیں ہونے دیتا

Saturday, 24 May 2025

قلندر تھا کوئی سلطان تھا میں

 قلندر تھا کوئی سلطان تھا میں

کوئی دن دشت میں مہمان تھا میں

گِرا دیکھا اٹھایا نہ کسی نے

کہ لا وارث کوئی سامان تھا میں

چھُوا تم نے تو مجھ میں جان آئی

تو کیا اتنے دنوں بے جان تھا میں

Wednesday, 12 March 2025

ایک سوکھے شجر کا سایہ ہوں

ایک سُوکھے شجر کا سایہ ہوں

میں بھی اس دُھوپ کی رعایا ہوں

مجھ کو رکھ لے سمیٹ کر دل میں

میں تِری آنکھ 👁 کا کرایہ ہوں

تُو بدن کو ٹٹولتا کیا ہے؟

میں تِری رُوح میں سمایا ہوں