خلوص التجا تو ہے اثر نہیں، نہیں سہی
انہیں ہمارے حال کی خبر نہیں، نہیں سہی
اِدھر بھی ضبط مدعا سے گنگ ہے مِری زباں
اُدھر بھی پُرسشِ الم اگر نہیں، نہیں سہی
جنون تو ہے، یہی بہت ہے کاروانِ شوق کو
رہِ طلب میں کوئی راہبر نہیں، نہیں سہی
خلوص التجا تو ہے اثر نہیں، نہیں سہی
انہیں ہمارے حال کی خبر نہیں، نہیں سہی
اِدھر بھی ضبط مدعا سے گنگ ہے مِری زباں
اُدھر بھی پُرسشِ الم اگر نہیں، نہیں سہی
جنون تو ہے، یہی بہت ہے کاروانِ شوق کو
رہِ طلب میں کوئی راہبر نہیں، نہیں سہی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے خدا رہنمائی دے ہم کو
راہِ حق تک رسائی دے ہم کو
لذتِ پارسائی دے ہم کو
معصیت سے رہائی دے ہم کو
پھر غمِ دل سے چُور ہو جائیں
درد سے آشنائی دے ہم کو
آنکھ نم ہے نہ دل فگار اپنا
اٹھ گیا خود سے اعتبار اپنا
ذکر ہوتا ہے بار بار اپنا
ٹوٹتا ہی نہیں خمار اپنا
دیکھنا چاہتے ہو یار اپنا
توڑئیے پہلے یہ حصار اپنا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جان انبیاء تم ہو، شان کبریا تم ہو
ابتداء بھی تم سے تھی اور انتہا تم ہو
بزمِ عالمِ امکاں ہو کہ لا مکاں دونوں
محفلیں تمہاری ہیں، ان میں رُونما تم ہو
رہ روِ رہِ اسرا اور مقامِ او ادنیٰ
نطق گنگ ہے آقاؐ کیا کہیں کہ کیا تم ہو
ذکر عشرت ماضی قصہ ہے فسانہ ہے
آج غم کی دنیا ہے،۔ درد کا زمانہ ہے
دیدنی ہے آرائش اب نگارِ ہستی کی
زندگی کی زُلفوں میں کشمکش کا شانہ ہے
نذرِ جور گُلچیں ہے، برق کی بھی زد میں ہے
ہائے، وہ چمن اپنا جس میں آشیانہ ہے