Showing posts with label نیاز گلبرگوی. Show all posts
Showing posts with label نیاز گلبرگوی. Show all posts

Saturday, 13 December 2025

خلوص التجا تو ہے اثر نہیں نہیں سہی

 خلوص التجا تو ہے اثر نہیں، نہیں سہی

انہیں ہمارے حال کی خبر نہیں، نہیں سہی

اِدھر بھی ضبط مدعا سے گنگ ہے مِری زباں

اُدھر بھی پُرسشِ الم اگر نہیں، نہیں سہی

جنون تو ہے، یہی بہت ہے کاروانِ شوق کو

رہِ طلب میں کوئی راہبر نہیں، نہیں سہی

Tuesday, 8 April 2025

اے خدا رہنمائی دے ہم کو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے خدا رہنمائی دے ہم کو

راہِ حق تک رسائی دے ہم کو

لذتِ پارسائی دے ہم کو

معصیت سے رہائی دے ہم کو

پھر غمِ دل سے چُور ہو جائیں

درد سے آشنائی دے ہم کو

Sunday, 22 December 2024

آنکھ نم ہے نہ دل فگار اپنا

 آنکھ نم ہے نہ دل فگار اپنا

اٹھ گیا خود سے اعتبار اپنا

ذکر ہوتا ہے بار بار اپنا

ٹوٹتا ہی نہیں خمار اپنا

دیکھنا چاہتے ہو یار اپنا

توڑئیے پہلے یہ حصار اپنا

Thursday, 28 November 2024

جان انبیاء تم ہو شان کبریا تم ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جان انبیاء تم ہو، شان کبریا تم ہو

ابتداء بھی تم سے تھی اور انتہا تم ہو

بزمِ عالمِ امکاں ہو کہ لا مکاں دونوں

محفلیں تمہاری ہیں، ان میں رُونما تم ہو

رہ روِ رہِ اسرا اور مقامِ او ادنیٰ

نطق گنگ ہے آقاؐ کیا کہیں کہ کیا تم ہو

Saturday, 23 November 2024

ذکر عشرت ماضی قصہ ہے فسانہ ہے

 ذکر عشرت ماضی قصہ ہے فسانہ ہے

آج غم کی دنیا ہے،۔ درد کا زمانہ ہے

دیدنی ہے آرائش اب نگارِ ہستی کی

زندگی کی زُلفوں میں کشمکش کا شانہ ہے

نذرِ جور گُلچیں ہے، برق کی بھی زد میں ہے

ہائے، وہ چمن اپنا جس میں آشیانہ ہے