عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ہر اشک تِرے سامنے تفسیرِ دعا ہے
احساسِ ندامت میں نہاں تیری عطا ہے
ہر کام کا مقصود مجھے تیری رضا ہو
ہر لمحہ یہ احساس ہو تو دیکھ رہا ہے
حیرت بھی تِرے در پہ ہے اک رنگِ عبادت
دربار میں تیرے تو خموشی بھی صدا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ہر اشک تِرے سامنے تفسیرِ دعا ہے
احساسِ ندامت میں نہاں تیری عطا ہے
ہر کام کا مقصود مجھے تیری رضا ہو
ہر لمحہ یہ احساس ہو تو دیکھ رہا ہے
حیرت بھی تِرے در پہ ہے اک رنگِ عبادت
دربار میں تیرے تو خموشی بھی صدا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو مقدس ہے زمانے میں مگر دیکھا ہے
ہم نے اللہ کے محبوبﷺ کا گھر دیکھا ہے
جس سے لوٹا ہی نہیں کوئی بھی مایوس کبھی
جو ہے بے مثل زمانے میں، وہ در دیکھا ہے
ظلمتِ جاں کو کیا جس کی کرن نے روشن
شہرِ رحمت میں عجب نور سحر دیکھا ہے
آج یوں درد تِرا دل کے اُفق پر چمکا
جیسے دو پَل کے لیے صبح کا اختر چمکا
یوں ضیا بار رہی ہجر کی شب یاد تِری
غم کا شعلہ تِرے رُخسار سے بڑھ کر چمکا
خاکِ گلشن سے نہ کوئی بھی شرارہ پھوٹا
فصلِ گُل آئی نہ کوئی بھی گُلِ تر چمکا
ہے وجہِ سکون دلِ آشفتہ نوا بھی
وہ آنکھ کہ ہے فتنۂ صد ہوشربا بھی
ہے کارِ جنوں اہل جنوں کے لیے آساں
یہ کام کبھی اہلِ فراست سے ہُوا بھی
تسکین دل و جاں ہے اگر وہ رخِ زیبا
اس قامتِ زیبا میں ہے اک حشر چھپا بھی
جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہے
لبوں سے نغمۂ صلِ علیٰ نکلتا ہے
محبتوں کا عجب شہر ہے مدینہ بھی
ہر ایک شخص جہاں آشنا نکلتا ہے
حرم میں ہوتا ہے ایسا گداز کا عالم
جہاں پہ اشک برنگِ دعا نکلتا ہے
ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہے
تجھ کو بھی بچھڑ کے دکھ ہوا ہے
ہے شعلۂ جاں میں یاد تیری
کیا آگ میں پھول کھل رہا ہے
خورشید سحر طلوع ہو کر
شبنم کا مزاج پوچھتا ہے
یارائے گفتگو نہیں آنکھوں میں دم نہیں
یہ خامشی بھی عرضِ تمنا سے کم نہیں
ویران کس قدر ہے گزر گاہِ آرزو
اس رہگزر میں کوئی بھی نقشِ قدم نہیں
قائم رہی جنوں میں بھی اک وضعِ احتیاط
دل خون ہو گیا ہے مگر آنکھ نم نہیں