Showing posts with label حافظ لدھیانوی. Show all posts
Showing posts with label حافظ لدھیانوی. Show all posts

Tuesday, 16 May 2023

ہر اشک ترے سامنے تفسیر دعا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


ہر اشک تِرے سامنے تفسیرِ دعا ہے

احساسِ ندامت میں نہاں تیری عطا ہے

ہر کام کا مقصود مجھے تیری رضا ہو

ہر لمحہ یہ احساس ہو تو دیکھ رہا ہے

حیرت بھی تِرے در پہ ہے اک رنگِ عبادت

دربار میں تیرے تو خموشی بھی صدا ہے

Friday, 22 April 2022

ہم نے اللہ کے محبوب کا گھر دیکھا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جو مقدس ہے زمانے میں مگر دیکھا ہے

ہم نے اللہ کے محبوبﷺ کا گھر دیکھا ہے

جس سے لوٹا ہی نہیں کوئی بھی مایوس کبھی

جو ہے بے مثل زمانے میں، وہ در دیکھا ہے

ظلمتِ جاں کو کیا جس کی کرن نے روشن

شہرِ رحمت میں عجب نور سحر دیکھا ہے

Thursday, 24 June 2021

آج یوں درد ترا دل کے افق پر چمکا

 آج یوں درد تِرا دل کے اُفق پر چمکا

جیسے دو پَل کے لیے صبح کا اختر چمکا

یوں ضیا بار رہی ہجر کی شب یاد تِری

غم کا شعلہ تِرے رُخسار سے بڑھ کر چمکا

خاکِ گلشن سے نہ کوئی بھی شرارہ پھوٹا

فصلِ گُل آئی نہ کوئی بھی گُلِ تر چمکا

Wednesday, 23 June 2021

ہے وجہ سکون دل آشفتہ نوا بھی

 ہے وجہِ سکون دلِ آشفتہ نوا بھی

وہ آنکھ کہ ہے فتنۂ صد ہوشربا بھی

ہے کارِ جنوں اہل جنوں کے لیے آساں

یہ کام کبھی اہلِ فراست سے ہُوا بھی

تسکین دل و جاں ہے اگر وہ رخِ زیبا

اس قامتِ زیبا میں ہے اک حشر چھپا بھی

Tuesday, 22 June 2021

جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہے

 جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہے

لبوں سے نغمۂ صلِ علیٰ نکلتا ہے

محبتوں کا عجب شہر ہے مدینہ بھی

ہر ایک شخص جہاں آشنا نکلتا ہے

حرم میں ہوتا ہے ایسا گداز کا عالم

جہاں پہ اشک برنگِ دعا نکلتا ہے

ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہے

 ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہے

تجھ کو بھی بچھڑ کے دکھ ہوا ہے

ہے شعلۂ جاں میں یاد تیری

کیا آگ میں پھول کھل رہا ہے

خورشید سحر طلوع ہو کر

شبنم کا مزاج پوچھتا ہے

Wednesday, 24 March 2021

یارائے گفتگو نہیں آنکھوں میں دم نہیں

 یارائے گفتگو نہیں آنکھوں میں دم نہیں

یہ خامشی بھی عرضِ تمنا سے کم نہیں

ویران کس قدر ہے گزر‌ گاہِ آرزو

اس رہگزر میں کوئی بھی نقشِ قدم نہیں

قائم رہی جنوں میں بھی اک وضعِ احتیاط

دل خون ہو گیا ہے مگر آنکھ نم نہیں