لمحوں کی نیلامی
ہاتھوں میں جام
اور ہوش کی بات کریں
ارے کچھ تو
ہوش کی بات کر ساقی
پیمانہ بھی نہ چھلکے
اور سرور چڑھے
لمحوں کی نیلامی
ہاتھوں میں جام
اور ہوش کی بات کریں
ارے کچھ تو
ہوش کی بات کر ساقی
پیمانہ بھی نہ چھلکے
اور سرور چڑھے
میری خوش فہمی
مکمل تھی زندگی
تھے راستے خوش نما
نہ تھی منزل کی پرواہ
چُن لی اپنی مرضی کی ڈگر
اور میں ہی میرا ہمسفر
خود کی صحبت سے بہتر
کتھئی شام
ایک کتھئی شام
ہواؤں میں عطر گھول گیا کوئی
لکھنے خوابوں کو پلکیں جو مُوندیں
کہ کاجل لگا گیا کوئی
صبح ہنستی تھی
اُس کا درد میرا مرہم
نہ تیرا کوئی بسیرا
نہ میرا کوئی ٹھکانا
چل مِل کے ڈھونڈتے ہیں
کوئی نیا آشیانا
ایک ہی کشتی کے
ہم دونوں ہیں مسافر
شرارتی چاند
بڑا شرارتی ہے یہ چاند بھی
جلانا، ستانا، ترسانا
شوق ہیں اس کے
اور لُکا چُھپی اس کی فطرت
اس پر حماقت یہ
کہ نِگل جاتا ہے