Showing posts with label علی ادراک. Show all posts
Showing posts with label علی ادراک. Show all posts

Monday, 27 March 2023

عجیب دن ہیں تمہاری دوری نے ایسے عقدے بچھا دئیے ہیں

 عجیب دن ہیں

عجیب دن ہیں 

تمہاری دوری نے ایسے عقدے بچھا دئیے ہیں

کہ جن کے کُھلنے کی ہر جہد میں میں اپنی سانسیں گنوا رہا ہوں

میں اپنے ہاتھوں کو زخمی کر کے 

تمہاری پوروں کا لمس کیسے مٹا رہا ہوں

Monday, 26 July 2021

چہرہ حلیہ حال پرانا پڑ جاتا ہے

 چہرہ، حلیہ، حال پرانا پڑ جاتا ہے

اپنے گھر میں نام بتانا پڑ جاتا ہے

اک تیزی منزل سے آگے لے جاتی ہے

پھر سے دنیا گھوم کے آنا پڑ جاتا ہے

کچھ قبروں کو پھول ترستے رہ جاتے ہیں

کچھ خوابوں کو روز بھلانا پڑ جاتا ہے

Thursday, 22 July 2021

یوں مقدر بدلتے رہتے ہیں

 یوں مقدر بدلتے رہتے ہیں

تاج بھی سر بدلتے رہتے ہیں

گھیر لیتے ہیں وسوسے ہم کو

آپ نمبر بدلتے رہتے ہیں

تُو مسافر ہے ریل گاڑی کا

تیرے منظر بدلتے رہتے ہیں

Wednesday, 3 March 2021

ایک کروٹ سے دوسری کا سفر

 ایک کروٹ سے دوسری کا سفر

رات جیسا ہے زندگی کا سفر

سب کا رونا بھی ہم ہی روئیں گے

کاٹ لیتے ہیں ہر کسی کا سفر

نور کی نور تک رسائی ہے

آدمی تک ہے آدمی کا سفر

Saturday, 12 December 2020

خاک کا یہ ڈھیر بھی آخر پڑا رہ جائے گا

 خاک کا یہ ڈھیر بھی آخر پڑا رہ جائے گا

ڈوب جائے گا سفینہ، ناخدا رہ جائے گا

ہم رہیں گے یا نہیں اشعار تو رہ جائیں گے

لاش اٹھ جائے گی لیکن حادثہ رہ جائے گا

ایک فرضی سے تعلق میں کہاں رعنائیاں

مل نہ پائیں گے کبھی ہم، رابطہ رہ جائے گا

Sunday, 29 November 2020

ہمیں گرا کر کوئی مجازاً کھڑا رہے گا

 ہمیں گرا کر کوئی مجازاً کھڑا رہے گا

ہماری چپ سے کسی کا رتبہ بنا رہے گا

بطور آرائشِ مکاں بس یہی بچا ہے

کسی کی آنکھیں کسی کا چہرہ پڑا رہے گا

گئے دنوں میں اداسیاں لا علاج ہی تھیں

ہمارے ہوتے بھی اک یہی مسئلہ رہے گا