عجیب دن ہیں
عجیب دن ہیں
تمہاری دوری نے ایسے عقدے بچھا دئیے ہیں
کہ جن کے کُھلنے کی ہر جہد میں میں اپنی سانسیں گنوا رہا ہوں
میں اپنے ہاتھوں کو زخمی کر کے
تمہاری پوروں کا لمس کیسے مٹا رہا ہوں
عجیب دن ہیں
عجیب دن ہیں
تمہاری دوری نے ایسے عقدے بچھا دئیے ہیں
کہ جن کے کُھلنے کی ہر جہد میں میں اپنی سانسیں گنوا رہا ہوں
میں اپنے ہاتھوں کو زخمی کر کے
تمہاری پوروں کا لمس کیسے مٹا رہا ہوں
چہرہ، حلیہ، حال پرانا پڑ جاتا ہے
اپنے گھر میں نام بتانا پڑ جاتا ہے
اک تیزی منزل سے آگے لے جاتی ہے
پھر سے دنیا گھوم کے آنا پڑ جاتا ہے
کچھ قبروں کو پھول ترستے رہ جاتے ہیں
کچھ خوابوں کو روز بھلانا پڑ جاتا ہے
یوں مقدر بدلتے رہتے ہیں
تاج بھی سر بدلتے رہتے ہیں
گھیر لیتے ہیں وسوسے ہم کو
آپ نمبر بدلتے رہتے ہیں
تُو مسافر ہے ریل گاڑی کا
تیرے منظر بدلتے رہتے ہیں
ایک کروٹ سے دوسری کا سفر
رات جیسا ہے زندگی کا سفر
سب کا رونا بھی ہم ہی روئیں گے
کاٹ لیتے ہیں ہر کسی کا سفر
نور کی نور تک رسائی ہے
آدمی تک ہے آدمی کا سفر
خاک کا یہ ڈھیر بھی آخر پڑا رہ جائے گا
ڈوب جائے گا سفینہ، ناخدا رہ جائے گا
ہم رہیں گے یا نہیں اشعار تو رہ جائیں گے
لاش اٹھ جائے گی لیکن حادثہ رہ جائے گا
ایک فرضی سے تعلق میں کہاں رعنائیاں
مل نہ پائیں گے کبھی ہم، رابطہ رہ جائے گا
ہمیں گرا کر کوئی مجازاً کھڑا رہے گا
ہماری چپ سے کسی کا رتبہ بنا رہے گا
بطور آرائشِ مکاں بس یہی بچا ہے
کسی کی آنکھیں کسی کا چہرہ پڑا رہے گا
گئے دنوں میں اداسیاں لا علاج ہی تھیں
ہمارے ہوتے بھی اک یہی مسئلہ رہے گا