یوں مقدر بدلتے رہتے ہیں
تاج بھی سر بدلتے رہتے ہیں
گھیر لیتے ہیں وسوسے ہم کو
آپ نمبر بدلتے رہتے ہیں
تُو مسافر ہے ریل گاڑی کا
تیرے منظر بدلتے رہتے ہیں
میرے اپنے مِرے مقابل ہیں
روز لشکر بدلتے رہتے ہیں
زخم ترتیب میں نہیں ملتے
ہاتھ خنجر بدلتے رہتے ہیں
میری حالت پہ بولنے والو
حادثے گھر بدلتے رہتے ہیں
شاعرانہ مزاج جوں کے توں
اور دیگر بدلتے رہتے ہیں
کیا گِلہ رنگ کے اترنے کا
لوگ مل کر بدلتے رہتے ہیں
کارِ دنیا، خدا، کہ ہجر کے غم
رات بھر ڈر بدلتے رہتے ہیں
تیرے خط کا جواب دینے کو
ہم کبوتر بدلتے رہتے ہیں
علی ادراک
No comments:
Post a Comment