Thursday, 22 July 2021

یوں مقدر بدلتے رہتے ہیں

 یوں مقدر بدلتے رہتے ہیں

تاج بھی سر بدلتے رہتے ہیں

گھیر لیتے ہیں وسوسے ہم کو

آپ نمبر بدلتے رہتے ہیں

تُو مسافر ہے ریل گاڑی کا

تیرے منظر بدلتے رہتے ہیں

میرے اپنے مِرے مقابل ہیں

روز لشکر بدلتے رہتے ہیں

زخم ترتیب میں نہیں ملتے

ہاتھ خنجر بدلتے رہتے ہیں

میری حالت پہ بولنے والو

حادثے گھر بدلتے رہتے ہیں

شاعرانہ مزاج جوں کے توں

اور دیگر بدلتے رہتے ہیں

کیا گِلہ رنگ کے اترنے کا

لوگ مل کر بدلتے رہتے ہیں

کارِ دنیا، خدا، کہ ہجر کے غم

رات بھر ڈر بدلتے رہتے ہیں

تیرے خط کا جواب دینے کو

ہم کبوتر بدلتے رہتے ہیں


علی ادراک

No comments:

Post a Comment