ایک چہرہ ہے جو اس دل میں چھپا رکھا ہے
اور پھر دل کو بھی مندر سا بنا رکھا ہے
شہر کا شہر چلا آتا ہے پتھر لے کر
اس کی چاہت نے تو دیوانہ بنا رکھا ہے
آج پھر اس کا یہ وعدہ ہے کہ وہ آئے گا
میں نے اس واسطے اس گھر کو سجا رکھا ہے
دل کی پاتال کی تاریکی گئی جانے کہاں
اک دیا نام کا تیرے جو جلا رکھا ہے
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں کوئی اور نہیں
اک تیرا نام ہے سرِ حرفِ دُعا رکھا ہے
چاہنے والوں سے کیا ایسا کہا جانا ہے
جو سلوک اُس نے میرے ساتھ روا رکھا ہے
لبنیٰ صفدر
No comments:
Post a Comment