Thursday, 22 July 2021

ایک چہرہ ہے جو اس دل میں چھپا رکھا ہے

 ایک چہرہ ہے جو اس دل میں چھپا رکھا ہے

اور پھر دل کو بھی مندر سا بنا رکھا ہے

شہر کا شہر چلا آتا ہے پتھر لے کر

اس کی چاہت نے تو دیوانہ بنا رکھا ہے

آج پھر اس کا یہ وعدہ ہے کہ وہ آئے گا

میں نے اس واسطے اس گھر کو سجا رکھا ہے

دل کی پاتال کی تاریکی گئی جانے کہاں

اک دیا نام کا تیرے جو جلا رکھا ہے

میرے ہاتھوں کی لکیروں میں کوئی اور نہیں

اک تیرا نام ہے سرِ حرفِ دُعا رکھا ہے

چاہنے والوں سے کیا ایسا کہا جانا ہے

جو سلوک اُس نے میرے ساتھ روا رکھا ہے


لبنیٰ صفدر

No comments:

Post a Comment