Thursday, 22 July 2021

زندگی کاٹ چکا وقت بھی میں کاٹ چکا

 زندگی کاٹ چکا، وقت بھی میں کاٹ چکا

منزلِ عشق کا حل تجھ سے یہاں بانٹ چکا

رہ گئیں تھیں تِری یادیں کسی کونے میں پڑی

بے اردہ انھیں ترتیب سے میں چھانٹ چکا

کچھ افاقہ نہ ہوا راہِ محبت میں تِری

ہجر کی خاک سر دشت بلا چاٹ چکا

یہ مناسب تو نہیں تجھ کو بتانا مِرے دوست

اک شجر کار اذیت میں تِری کاٹ چکا

اس قدر عشق میں تو حد سے گزر جائے کہیں

وقت بے وقت سہی رک کے تجھے ڈانٹ چکا


حسن رضا

No comments:

Post a Comment