میں اک دیوتائے انا
نرگسیت کا مارا ہوا
اور ازل سے تکبر میں ڈوبا ہوا
کافی خود سر ہوں
ضدی ہوں مغرور ہوں
میرے چاروں طرف میری اندھی انا کی وہ دیوار ہے
میں اک دیوتائے انا
نرگسیت کا مارا ہوا
اور ازل سے تکبر میں ڈوبا ہوا
کافی خود سر ہوں
ضدی ہوں مغرور ہوں
میرے چاروں طرف میری اندھی انا کی وہ دیوار ہے
''Sirius-the-scorcher''ستارہ سیریس
تمہیں پتہ ہے
تم اس جہان کی نہیں ہو
تمہیں پتہ ہے
تم اس ڈائیمنشن کی بھی نہیں ہو
تم دور پار کہیں کسی پیرالل یونیورس میں
سانولی
کتنے الفاظ ہیں
جو مری انگلیوں کے ہر اک پور میں
اک سمندر کی مانند بند ہیں
(سمندر، بہت ہی غصیلا سمندر)
سمندر، وہ جو منتظر ہے
سنا ہے وہ اداس ہے
اسے کہو
کبھی بھی تیرگی میں ڈوبنے لگے
کبھی بھی ٹوٹ کر گرے
کبھی بھی ہار کر گرے
تو میری نظم تھام کر گلے لگا لیا کرے