Showing posts with label صہیب مغیرہ. Show all posts
Showing posts with label صہیب مغیرہ. Show all posts

Friday, 2 December 2022

میں اک دیوتائے انا نرگسیت کا مارا ہوا

 میں اک دیوتائے انا

نرگسیت کا مارا ہوا

اور ازل سے تکبر میں ڈوبا ہوا

کافی خود سر ہوں

ضدی ہوں مغرور ہوں

میرے چاروں طرف میری اندھی انا کی وہ دیوار ہے

Tuesday, 28 June 2022

تمہیں پتہ ہے تم اس جہان کی نہیں ہو

 ''Sirius-the-scorcher''ستارہ سیریس 


تمہیں پتہ ہے

تم اس جہان کی نہیں ہو

تمہیں پتہ ہے

تم اس ڈائیمنشن کی بھی نہیں ہو

تم دور پار کہیں کسی پیرالل یونیورس میں

Thursday, 18 November 2021

سانولی تو ہنسے اور سمندر ابلنے لگے

 سانولی


کتنے الفاظ ہیں

جو مری انگلیوں کے ہر اک پور میں

اک سمندر کی مانند بند ہیں

(سمندر، بہت ہی غصیلا سمندر)

سمندر، وہ جو منتظر ہے

Wednesday, 14 October 2020

سنا ہے وہ اداس ہے

 سنا ہے وہ اداس ہے

اسے کہو

کبھی بھی تیرگی میں ڈوبنے لگے

کبھی بھی ٹوٹ کر گرے

کبھی بھی ہار کر گرے

تو میری نظم تھام کر گلے لگا لیا کرے

Wednesday, 12 August 2020

جہاں میں اضطراب ہے

اضطراب

جہاں میں اضطراب ہے
نہیں نہیں
جہاں ہی اضطراب ہے
ہزارہا کواکب و نجوم ہاۓ کہکشاں سے
ایٹموں کی کوکھ تک
مدار در مدار ہر وجود بے قرار ہے

Thursday, 13 February 2020

میں نے چاہا ہے ترا ذکر اذانوں میں چلے

اب ترا درد مسلسل ہو، زمانوں میں چلے
جیسے اک میٹھی روایت ہو، گھرانوں مٰیں چلے
اب مِرے عشق پہ تکفیر کے فتوے آئیں
میں نے چاہا ہے تِرا ذکر اذانوں میں چلے
ہم کو بُراق تھا حاصل، نہ ہی جبریل ملا
پھر بھی جب تجھ کو تلاشا تو جہانوں میں چلے

یہ رنگ عاجزی جب سے مناجاتوں میں آیا ہے

یہ رنگِ عاجزی جب سے مناجاتوں میں آیا ہے
تکبر سا خدا میں، اور خدا والوں میں آیا ہے
سبھی ننھے فرشتے پھر سکولوں میں چلے آئے
کلیجہ اب کے یہ کیسا مِری ماؤں میں آیا ہے
وہی جو کہ پڑھا کرتا تھا شہروں میں مگر اب کے
گھٹن سے مر چلا جب تو وہیں گاؤں میں آیا ہے

پاگل نہ کر سکا تو اسے مار دوں گا میں

ایسی شدید روشنی میں جل مروں گا میں
اتنے حسین شخص کو کیسے سہوں گا میں
میں مرکزے سے دور ہوں پر دائرے میں ہوں
زندہ رہا تو تیرے گلے آ لگوں گا میں
مجھ سے مِرا وجود تو ثابت نہیں ہوا
تُو آنکھ بھر کے دیکھ لے ہونے لگوں گا میں

Thursday, 16 January 2020

رائیگانی (حصہ اول)

رائیگانی 
(حصہ اول)

میں کمرے میں پچھلے اکتیس دنوں سے
فقط اس حقیقت کا نقصان گننے کی کوشش میں الجھا ہوا ہوں
کہ تُو جا چکی ہے
تجھے رائیگانی کا رتی برابر اندازہ نہیں ہے
تجھے یاد ہے وہ زمانہ

رائیگانی (حصہ دوم)

رائیگانی 
(حصہ دوم)

جو بات گنتی کے چند دنوں سے شروع ہوئی تھی
وہ سالہا سال تک چلی ہے
کئی زمانوں میں بٹ گئی ہے
میں ان زمانوں میں لمحہ لمحہ تمہاری نظروں کے بن رہا ہوں
میں اب تلک بھی تمہارے جانے کا باقی نقصان گن رہا ہوں

شکست خواب

شکستِ خواب

مِرے ایلیا
تیری آنکھوں میں یہ جو تجسس کے شعلے
رواں ہیں
دواں ہیں
مجھے سب خبر ہے
کہ ان میں سوالوں

Saturday, 16 November 2019

واہمہ؛ رات جاگی تو کہیں صحن میں سوکھے پتے

واہمہ

رات جاگی تو کہیں صحن میں سوکھے پتے
چرمرائے کہ کوئی آیا،۔ کوئی آیا ہے
اور ہم شوق کے مارے ہوئے دوڑے آئے
گو کہ معلوم ہے، تُو ہے نہ تیرا سایا ہے

ہم کہ دیکھیں کبھی دالان، کبھی سوکھا چمن
اس پہ دھیمی سی تمنا کہ پکارے جائیں

کبھی جو دل گرفتہ ہوں تو یونہی ٹھان لیتا ہوں

کبھی جو دل گرفتہ ہوں تو یونہی ٹھان لیتا ہوں
کہ کیمپس کے سبھی ڈھابوں سے کچے نان لیتا ہوں
تمہاری آنکھ میں جادو؟ نہیں ہرگز نہیں، لیکن
چلو تم زور دیتے ہو تو یہ بھی مان لیتا ہوں
مگر تم بھی نا جاناں کس قدر بھولی ہو، بدھو ہو
میں ہفتوں نہ نہا کر بس تمہاری جان لیتا ہوں

اے کہ وجہ سخن

اے کہ وجہِ سخن
جان و رنگِ غزل
کائناتی محبت کا ردِ عمل
اے اداسی کے ہونے میں واحد خلل
تجھ سے نادم ہوں میں
میرے وہم و گماں میں

نقصان

نقصان

جو بات گنتی کے کچھ دنوں سے شروع ہوئی تھی
وہ سالہا سال تک چلی ہے
کئی زمانوں میں بٹ گئی ہے
میں ان زمانوں میں لمحہ لمحہ تمہاری نظروں کے بن رہا ہوں
میں اب تلک بھی تمہارے جانے کا باقی نقصان گن رہا ہوں

سنا ہے تلخئ ایام سے لاچار ہو چکے

سنا ہے تلخئ ایام سے لاچار ہو چکے
برباد ہو چکے، وہ بے زار ہو چکے
گر یوں ہے
تو بے تشنہ و آباد کیوں نہ ہم
سرِ عام کوئی ہجر کا ازالہ کر چلیں
بڑی مشکل سے، اپنے دل سے