Thursday, 18 November 2021

سانولی تو ہنسے اور سمندر ابلنے لگے

 سانولی


کتنے الفاظ ہیں

جو مری انگلیوں کے ہر اک پور میں

اک سمندر کی مانند بند ہیں

(سمندر، بہت ہی غصیلا سمندر)

سمندر، وہ جو منتظر ہے

کہ کب تیرے ہونٹوں کے دونوں سرے

مسکراہٹ کی کوشش میں کھچنے لگیں

اور رخسار میں پیچ و خم ڈال دیں

ایک شاعر جو آنکھیں مسلنے لگے

تُو ہنسے

اور سمندر

اُبلنے لگے


صہیب مغیرہ صدیقی

No comments:

Post a Comment