Thursday, 18 November 2021

حسن پری ہو ساتھ اور بے موسم کی بارش ہو جائے

 حسن پری ہو ساتھ اور بے موسم کی بارش ہو جائے

چھتری کون خریدے گا پھر جتنی بارش ہو جائے

ایسی پیاس کی شدت ہے کہ میں یہ دعائیں کرتا ہوں

جتنے سمندر ہیں دنیا میں سب کی بارش ہو جائے

میری غزلیں اس کے ساتھ بِتائے وقت کا حاصل ہیں

ویسی فصلیں اگ آتی ہیں جیسی بارش ہو جائے

چھوٹے چھوٹے تالابوں سے پانی چھینا جاتا ہے

تم تو بس یہ کہہ دیتے ہو؛ تھوڑی بارش ہو جائے

آندھی آئے بجلی کڑکے کالی گھٹائیں چھانے لگیں

مجبوراً وہ رکے مِرے گھر اتنی بارش ہو جائے

تنگ آیا ہوں میں اس ہجر و وصل کی بوندا باندی سے

یا تو سُوکھا پڑ جائے، یا ڈھنگ کی بارش ہو جائے


 (بدایوں) احمد عظیم 

No comments:

Post a Comment