جو بھی باقی نظر آئے ہے کہاں باقی ہے
چل دئیے سارے مکیں خالی مکاں باقی ہے
لاش کاندھوں پہ اٹھائے ہیں یقیں کی ہم لوگ
زندگی! پاس ترے زندہ گماں باقی ہے
صاحباں مثل کوئی توڑ گیا سانس کے تیر
جسم مٹی ہے سو مٹی کی کماں باقی ہے
جو بھی باقی نظر آئے ہے کہاں باقی ہے
چل دئیے سارے مکیں خالی مکاں باقی ہے
لاش کاندھوں پہ اٹھائے ہیں یقیں کی ہم لوگ
زندگی! پاس ترے زندہ گماں باقی ہے
صاحباں مثل کوئی توڑ گیا سانس کے تیر
جسم مٹی ہے سو مٹی کی کماں باقی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ایمان کیا ہے اس کے مسائل پہ بات کر
آ بیٹھ میرے ساتھ دلائل پہ بات کر
جھوٹے بزرگواروں کی جھوٹی کہانیاں
سب چھوڑ، حق رسیدہ رسائل پہ بات کر
طالبؑ، عقیلؑ جعفرؑ و حیدرؑ سے ہیں پسر
نگران مصطفٰیﷺ کے شمائل پہ بات کر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پاس ہے مال و متاع اور نہ دانائی ہے
لطفِ سرکار سے ہم جیسوں کی شنوائی ہے
کوئی بوذرؓ، کوئی قنبرؒ، کوئی مقدادؓ بنا
درِ احمدؐ سے ہوئی جن کی شناسائی ہے
درِ احمدﷺ پہ ملی، منا، کی سلماں کو سند
لطف ایسا ہے یہاں ایسی پذیرائی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سب کے معبود سے جب اذنِ سخن آتا ہے
تب کہیں نعتِ محمدﷺ کوئی لکھ پاتا ہے
اسوۂ احمدِ مرسلﷺ سے مدد پاتا ہے
رہِ حق میں کوئی جس گام پہ گھبراتا ہے
صبح کا بھولا ہوا شام کو گھر لوٹ آئے
"یوں مِرا قلب مدینے کی طرف جاتا ہے"
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جھلسا رہی تھی جب ہمیں اپنی خطا کی دھوپ
ایسے میں ابر بن گئی صلے علٰی کی دھوپ
لے جاتی کفر تک ہمیں یہ مفلسی کی دھند
ہوتی نہ گر حضورؐ کے جود و سخا کی دھوپ
🌻فہمِ بشر کو سائباں،۔ اُمّی کا انکسار🌻
ورنہ اسے جلاتی تھی کبر و انا کی دھوپ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مقیم کوئی نہ تھا پر مقام تھا پہلے
علیؑ کے آنے کا یوں اہتمام تھا پہلے
خوشی سے پھولے سماتا نہیں ہے اب کعبہ
نہ اس طرح یہ کبھی شاد کام تھا پہلے
علیؑ نے آ کے اسے محترم کیا ورنہ
خدا کے گھر کا نہ یوں احترام تھا پہلے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
روح رہتی ہے سرائے نعت میں
اور بدن تسکین پائے نعت میں
خوشبوئیں مہکیں قبائے ذات میں
"سانس لیتا ہوں فضائے نعت میں"
بادشاہی سے بڑا منصب ملے
نام گر آئے گدائے نعت میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کیا شکر ادا اس کا کرے بندۂ خاکی
خالق نے اسے نعت کی نعمت جو عطا کی
تا حشر منور کیے رکھے گی دلوں کو
کیا روشنی تھی روشنی وہ غارِ حرا کی
رستے ملے انسان کو افلاک کی جانب
سب دین ہے سرکارؐ کے نقشِ کفِ پا کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آنسوؤں کی جھڑی ہے آنکھوں میں
کربلا بس گئی ہے آنکھوں میں
جب سے دیکھا ہے اک جواں لاشہ
ایک برچھی گڑی ہے آنکھوں میں
اک دِیا کیا بُجھا ہے خیمے کا
روشنی بڑھ گئی ہے آنکھوں میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نعت سرکارﷺ کی جب وِردِ زباں ہوتی ہے
مجھ پہ کُھلتی ہے حقیقت جو نہاں ہوتی ہے
مِدحتِ سرورِ کونینﷺ تو ہے کارِ خدا
ہم گُنہ گار سے بندوں سے کہاں ہوتی ہے
نُطق فرماتے نہیں وحیِ الٰہی کے سوا
بات اللہ کی اور انؐ کی زباں ہوتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آقاﷺ کو یوں نعت سنائی جائے گی
"حمد سے پہلے میم لگائی جائے گی"
بسم اللہ کی با سے ناس کی س تلک
بس آقاﷺ کی نعت پڑھائی جائے گی
میرے کفن پہ نعت کو لکھا جائے گا
قبر میں میرے ساتھ کمائی جائے گی