Showing posts with label تسنیم قریشی. Show all posts
Showing posts with label تسنیم قریشی. Show all posts

Sunday, 22 June 2025

جو بھی باقی نظر آئے ہے کہاں باقی ہے

 جو بھی باقی نظر آئے ہے کہاں باقی ہے

چل دئیے سارے مکیں خالی مکاں باقی ہے

لاش کاندھوں پہ اٹھائے ہیں یقیں کی ہم لوگ

زندگی! پاس ترے زندہ گماں باقی ہے

صاحباں مثل کوئی توڑ گیا سانس کے تیر

جسم مٹی ہے سو مٹی کی کماں باقی ہے

Friday, 6 September 2024

ایمان کیا ہے اس کے مسائل پہ بات کر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ایمان کیا ہے اس کے مسائل پہ بات کر

آ بیٹھ میرے ساتھ دلائل پہ بات کر

جھوٹے بزرگواروں کی جھوٹی کہانیاں

سب چھوڑ، حق رسیدہ رسائل پہ بات کر

طالبؑ، عقیلؑ جعفرؑ و حیدرؑ سے ہیں پسر

نگران مصطفٰیﷺ کے شمائل پہ بات کر

Thursday, 15 August 2024

پاس ہے مال و متاع اور نہ دانائی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پاس ہے مال و متاع اور نہ دانائی ہے

لطفِ سرکار سے ہم جیسوں کی شنوائی ہے

کوئی بوذرؓ، کوئی قنبرؒ، کوئی مقدادؓ بنا

درِ احمدؐ سے ہوئی جن کی شناسائی ہے

درِ احمدﷺ پہ ملی، منا، کی سلماں کو سند

لطف ایسا ہے یہاں ایسی پذیرائی ہے

Wednesday, 7 August 2024

سب کے معبود سے جب اذن سخن آتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سب کے معبود سے جب اذنِ سخن آتا ہے

تب کہیں نعتِ محمدﷺ کوئی لکھ پاتا ہے

اسوۂ احمدِ مرسلﷺ سے مدد پاتا ہے

رہِ حق میں کوئی جس گام پہ گھبراتا ہے

صبح کا بھولا ہوا شام کو گھر لوٹ آئے

"یوں مِرا قلب مدینے کی طرف جاتا ہے"

Sunday, 28 July 2024

جھلسا رہی تھی جب ہمیں اپنی خطا کی دھوپ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جھلسا رہی تھی جب ہمیں اپنی خطا کی دھوپ

ایسے میں ابر بن گئی صلے علٰی کی دھوپ

لے جاتی کفر تک ہمیں یہ مفلسی کی دھند

ہوتی نہ گر حضورؐ کے جود و سخا کی دھوپ

🌻فہمِ بشر کو سائباں،۔ اُمّی کا انکسار🌻

ورنہ اسے جلاتی تھی کبر و انا کی دھوپ

Monday, 24 June 2024

مقیم کوئی نہ تھا پر مقام تھا پہلے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مقیم کوئی نہ تھا پر مقام تھا پہلے

علیؑ کے آنے کا یوں اہتمام تھا پہلے

خوشی سے پھولے سماتا نہیں ہے اب کعبہ

نہ اس طرح یہ کبھی شاد کام تھا پہلے

علیؑ نے آ کے اسے محترم کیا ورنہ

خدا کے گھر کا نہ یوں احترام تھا پہلے

Friday, 21 June 2024

روح رہتی ہے سرائے نعت میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


روح رہتی ہے سرائے نعت میں

اور بدن تسکین پائے نعت میں

خوشبوئیں مہکیں قبائے ذات میں

"سانس لیتا ہوں فضائے نعت میں"

بادشاہی سے بڑا منصب ملے

نام گر آئے گدائے نعت میں

Tuesday, 18 June 2024

کیا شکر ادا اس کا کرے بندۂ خاکی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کیا شکر ادا اس کا کرے بندۂ خاکی

خالق نے اسے نعت کی نعمت جو عطا کی

تا حشر منور کیے رکھے گی دلوں کو

کیا روشنی تھی روشنی وہ غارِ حرا کی

رستے ملے انسان کو افلاک کی جانب

سب دین ہے سرکارؐ کے نقشِ کفِ پا کی

Tuesday, 11 June 2024

آنسوؤں کی جھڑی ہے آنکھوں میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آنسوؤں کی جھڑی ہے آنکھوں میں

کربلا بس گئی ہے آنکھوں میں

جب سے دیکھا ہے اک جواں لاشہ

ایک برچھی گڑی ہے آنکھوں میں

اک دِیا کیا بُجھا ہے خیمے کا

روشنی بڑھ گئی ہے آنکھوں میں

Monday, 10 June 2024

نعت سرکار کی جب ورد زباں ہوتی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نعت سرکارﷺ کی جب وِردِ زباں ہوتی ہے

مجھ پہ کُھلتی ہے حقیقت جو نہاں ہوتی ہے

مِدحتِ سرورِ کونینﷺ تو ہے کارِ خدا

ہم گُنہ گار سے بندوں سے کہاں ہوتی ہے

نُطق فرماتے نہیں وحیِ الٰہی کے سوا

بات اللہ کی اور انؐ کی زباں ہوتی ہے

Sunday, 9 June 2024

آقا کو یوں نعت سنائی جائے گی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آقاﷺ کو یوں نعت سنائی جائے گی

"حمد سے پہلے میم لگائی جائے گی"

بسم اللہ کی با سے ناس کی س تلک

بس آقاﷺ کی نعت پڑھائی جائے گی 

 میرے کفن پہ نعت کو لکھا جائے گا

قبر میں میرے ساتھ کمائی جائے گی