عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
والیل کے صدقے سخن آرائی ہوئی ہے
لگتا ہے کہ رحمت کی گھٹا چھائی ہوئی ہے
حفاظ نے رمضان میں قران سنایا
یعنی تیرے اوصاف کی دہرائی ہوئی ہے
پہنے ہیں سراقہ نے شہنشاہ کے کنگن
محبوب نے جو بات بھی فرمائی، ہوئی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
والیل کے صدقے سخن آرائی ہوئی ہے
لگتا ہے کہ رحمت کی گھٹا چھائی ہوئی ہے
حفاظ نے رمضان میں قران سنایا
یعنی تیرے اوصاف کی دہرائی ہوئی ہے
پہنے ہیں سراقہ نے شہنشاہ کے کنگن
محبوب نے جو بات بھی فرمائی، ہوئی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کس شان سے ہوتی ہے ملاقات مکمل
اک سیر میں اٹھتے ہیں حجابات مکمل
توحید کا مضمون بھی قُل سے ہوا آغاز
محبوب کے ہونٹوں سے ہوئی بات مکمل
کشاف حقیقت ہے نکیرین کی ترتیب
سرکارﷺ پہ ہوتے ہیں سوالات مکمل
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
صورتِ سیدِ سادات کی تصویر حسنؑ
سیرت سرور کونینؐ کی تنویر حسنؑ
علم اور حلم میں حیدرؑ کی شبیہ کامل
سر بسر عفو و کرم، جذبہ تعمیر حسنؑ
میرے مولا کے تعارف کے حوالے دیکھو
مالک خلد حسنؑ،۔ آیۂ تطہیر حسنؑ
جب کسی غم نے بے قرار کیا
چشمِ رحمت کا انتظار کیا
رات گہری تھی، میں اکیلا تھا
آپ کا ذکر بار بار کیا
تیرے خالق نے تیری صورت میں
اپنی قدرت کو آشکار کیا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نظر میں جلووں کی جھلملاہٹ پکارتی ہے
کہ یادِ طیبہ نصیب میرا سنوارتی ہے
سب انبیاء کا جواب سن کر، پئے شفاعت
شفیعِ محشرﷺ کو نسلِ آدمؑ پکارتی ہے
ہوائے طیبہ کی چارہ سازی ہر اک بھنور میں
مِرے سفینوں کو ساحلوں پر اتارتی ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نظر سے لوحِ دل پہ کچھ عبارتیں لکھی گئیں
برنگِ نور، سرخوشی کی ساعتیں لکھی گئیں
بیادِ شہر مصطفیٰؐ کبھی جو آنکھ نم ہوئی
اس اک گھڑی میں نعت کی اجازتیں لکھی گئیں
محبتوں کو میں نے صرف اُنؐ کے نام کر دیا
تو پھر مِرے نصیب میں محبتیں لکھی گئیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ان کی چشمِ کرم کے طلبگار ہیں
سر بسر اب تو ہم شوقِ دیدار ہیں
یادِ محبوبﷺ میں محوِ اذکار ہیں
اُن کے عشاق کیسے طرحدار ہیں
کم نصیبوں کو دنیا نے ٹھکرا دیا
کملی والے مگر سب کے غمخوار ہیں
تیر شکستہ تھے، تلوار پرانی تھی
میری جیت پہ دشمن کو حیرانی تھی
پانی میں اک عکس تھا، شام سہانی کا
باغ میں لیکن تنہا رات کی رانی تھی
جنگ سہی، پر بچوں کو پیاسا رکھنا
اس بزدل کی سوچ ہی غیر انسانی تھی
ہجر میں من لگا کے دیکھ، درد کو کائنات کر
چاند کو شاعری سنا، رات سے کوئی بات کر
قصہ تشنگی کو چھوڑ، ہجر کی بے بسی کو چھوڑ
جسم کی راگنی کو سن، وصل منا، حیات کر
خلوتِ جاں کو بزم کر، سارے خیال نظم کر
حرف کا معجزہ سمجھ، لفظ کو کائنات کر