Showing posts with label مسعود اختر. Show all posts
Showing posts with label مسعود اختر. Show all posts

Monday, 29 September 2025

والیل کے صدقے سخن آرائی ہوئی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


والیل کے صدقے سخن آرائی ہوئی ہے

لگتا ہے کہ رحمت کی گھٹا چھائی ہوئی ہے

حفاظ نے رمضان میں قران سنایا

یعنی تیرے اوصاف کی دہرائی ہوئی ہے

پہنے ہیں سراقہ نے شہنشاہ کے کنگن

محبوب نے جو بات بھی فرمائی، ہوئی ہے

Tuesday, 20 August 2024

کس شان سے ہوتی ہے ملاقات مکمل

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کس شان سے ہوتی ہے ملاقات مکمل

اک سیر میں اٹھتے ہیں حجابات مکمل

توحید کا مضمون بھی قُل سے ہوا آغاز

محبوب کے ہونٹوں سے ہوئی بات مکمل

کشاف حقیقت ہے نکیرین کی ترتیب

سرکارﷺ پہ ہوتے ہیں سوالات مکمل

Wednesday, 19 July 2023

صورت سید سادات کی تصویر حسن

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


صورتِ سیدِ سادات کی تصویر حسنؑ

سیرت سرور کونینؐ کی تنویر حسنؑ

علم اور حلم میں حیدرؑ کی شبیہ کامل

سر بسر عفو و کرم، جذبہ تعمیر حسنؑ

میرے مولا کے تعارف کے حوالے دیکھو

مالک خلد حسنؑ،۔ آیۂ تطہیر حسنؑ

Monday, 11 April 2022

جب کسی غم نے بے قرار کیا

جب کسی غم نے بے قرار کیا

چشمِ رحمت کا انتظار کیا

رات گہری تھی، میں اکیلا تھا

آپ کا ذکر بار بار کیا

تیرے خالق نے تیری صورت میں

اپنی قدرت کو آشکار کیا

Wednesday, 15 December 2021

کہ یادِ طیبہ نصیب میرا سنوارتی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


نظر میں جلووں کی جھلملاہٹ پکارتی ہے

کہ یادِ طیبہ نصیب میرا سنوارتی ہے

سب انبیاء کا جواب سن کر، پئے شفاعت

شفیعِ محشرﷺ کو نسلِ آدمؑ پکارتی ہے

ہوائے طیبہ کی چارہ سازی ہر اک بھنور میں

مِرے سفینوں کو ساحلوں پر اتارتی ہے

Tuesday, 14 December 2021

نظر سے لوح دل پہ کچھ عبارتیں لکھی گئیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


نظر سے لوحِ دل پہ کچھ عبارتیں لکھی گئیں

برنگِ نور، سرخوشی کی ساعتیں لکھی گئیں

بیادِ شہر مصطفیٰؐ کبھی جو آنکھ نم ہوئی

اس اک گھڑی میں نعت کی اجازتیں لکھی گئیں

محبتوں کو میں نے صرف اُنؐ کے نام کر دیا

تو پھر مِرے نصیب میں محبتیں لکھی گئیں

Monday, 13 December 2021

ان کی چشم کرم کے طلبگار ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ان کی چشمِ کرم کے طلبگار ہیں

سر بسر اب تو ہم شوقِ دیدار ہیں

یادِ محبوبﷺ میں محوِ اذکار ہیں

اُن کے عشاق کیسے طرحدار ہیں

کم نصیبوں کو دنیا نے ٹھکرا دیا

کملی والے مگر سب کے غمخوار ہیں

Sunday, 12 December 2021

تیر شکستہ تھے تلوار پرانی تھی

 تیر شکستہ تھے، تلوار پرانی تھی

میری جیت پہ دشمن کو حیرانی تھی

پانی میں اک عکس تھا، شام سہانی کا

باغ میں لیکن تنہا رات کی رانی تھی

جنگ سہی، پر بچوں کو پیاسا رکھنا

اس بزدل کی سوچ ہی غیر انسانی تھی

Monday, 13 September 2021

ہجر میں من لگا کے دیکھ درد کو کائنات کر

 ہجر میں من لگا کے دیکھ، درد کو کائنات کر

چاند کو شاعری سنا، رات سے کوئی بات کر

قصہ تشنگی کو چھوڑ، ہجر کی بے بسی کو چھوڑ

جسم کی راگنی کو سن، وصل منا، حیات کر

خلوتِ جاں کو بزم کر، سارے خیال نظم کر

حرف کا معجزہ سمجھ، لفظ کو کائنات کر