ہجر میں من لگا کے دیکھ، درد کو کائنات کر
چاند کو شاعری سنا، رات سے کوئی بات کر
قصہ تشنگی کو چھوڑ، ہجر کی بے بسی کو چھوڑ
جسم کی راگنی کو سن، وصل منا، حیات کر
خلوتِ جاں کو بزم کر، سارے خیال نظم کر
حرف کا معجزہ سمجھ، لفظ کو کائنات کر
آج نظر جھکا کے دیکھ، آنکھ کو دل بنا کے دیکھ
دیکھ کے پھر ہمیں دکھا، شرح تجلیات کر
کام کا دن گزر گیا، شعر کا وقت ہو چلا
اب ذرا چاندنی میں چل اب ذرا خود سے بات کر
چاند قریب ہے مگر ایسا قریب بھی نہیں
اپنی اڑان بھی تو دیکھ، خواہش ممکنات کر
مسعود اختر
No comments:
Post a Comment