یوں تو ہے بہت زیستِ ناگوار کا دُکھ
ہائے مگر جگر دریدہ و دلِ آزار کا دکھ
غیر تو غیر تھے سو نبھائی رسمِ ستم
مجھے ہے اس میں تِرے کردار کا دکھ
ابھی تازہ ہی تھا زخمِ جدائی اس پہ
ہوا دان تِرے اس نئے اقرار کا دکھ
یہ میں بتا دوں کہ تُو سمجھا ہے جتنا
ہے اس سے کہیں زیادہ تِرے بیمار کا دکھ
عہد و پیماں محض نظر میں ہیں کھلونا جن کی
خاک سمجھیں گے بھلا شبِ انتظار کا دکھ
اے خدا! اسے پیش آئے نہ فراق کا موسم
مجھ سے دیکھا نہیں جائے گا ستمگار کا دکھ
فقط داد و تحسیں ہی تو درکار نہی ہے زاہد
کاش یاں سمجھے کوئی اس قلمکار کا دکھ
زاہد ندیم احسن
No comments:
Post a Comment