کہیں پہ عشق کہیں زندگی کے دُکھ پڑے ہیں
ہمارے سامنے اس آگہی کے دکھ پڑے ہیں
خلا میں جاتے ہوئے لوگ جانتے ہی نہیں
پسِ فلک بھی اسی نارسی کے دکھ پڑے ہیں
یہ تم اندھیرے کے باسی نہیں سمجھ سکتے
ہماری آنکھ میں جس روشنی کے دکھ پڑے ہیں
کوئی بغیر گرے آ گیا ہے منزل تک
کسی کے راستے میں دوستی کے دکھ پڑے ہیں
یہ کاغذات کا اک ڈھیر کیا لگا ہوا ہے
مِرے خیال میں تو نوکری کے دکھ پڑے ہیں
احمد اویس
No comments:
Post a Comment