Showing posts with label علینا عترت. Show all posts
Showing posts with label علینا عترت. Show all posts

Monday, 15 May 2023

سب مشکلوں کا حل تو ہی رب کریم ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


سب مشکلوں کا حل تُو ہی ربِ کریم ہے

اور ذات پاک تیری غفور رحیم ہے

ذی قدر و ذی جلال تُو ذی شان و ذی شرف

تیری ہی بندگی تو راہِ مستقیم ہے

عزم و یقین و ضبط کا ہر مسئلے کا حل

اک درس گاہ تیرا کلام کریم ہے

Thursday, 11 August 2022

وہ خطاکار نہیں میں بھی گنہگار نہیں

 وہ خطاکار نہیں میں بھی گنہگار نہیں

راستہ عشق کا اس پر بھی تو ہموار نہیں

درمیاں، نامِ خدا رکھ دیا آخر میں نے

اب جدائی میں کہیں جیت کہیں ہار نہیں

ایک ہونے کی تو صورت ہی نہیں ہے کوئی

جاں مگر جاں سے جدا ہونے کو تیار نہیں

Tuesday, 23 November 2021

رات کے پچھلے پہر جس نے جگایا کیا تھا

 رات کے پچھلے پہر جس نے جگایا، کیا تھا

کوئی آسیب زدہ ہجر کا سایہ، کیا تھا

نہ تو ہم سمجھے، نہ کی کوئی وضاحت دل نے

جانے اپنا تھا کہ وہ شخص پرایا، کیا تھا

یہ تو سچ ہے کہ لبوں نے نہ کوئی جنبش کی

پر نگاہوں نے جو پیغام سنایا، کیا تھا

Sunday, 16 May 2021

موسم گل پر خزاں کا زور چل جاتا ہے کیوں

 موسم گل پر خزاں کا زور چل جاتا ہے کیوں

ہر حسیں منظر بہت جلدی بدل جاتا ہے کیوں

یوں اندھیرے میں دکھا کر روشنی کی اک جھلک

میری مُٹھی سے ہر اک جگنو نِکل جاتا ہے کیوں

روشنی کا اک مسافر تھک کے گھر آتا ہے جب

تو اندھیرا میرے سورج کو نِگل جاتا ہے کیوں

Saturday, 8 August 2020

ہر اک ورق میں نمایاں ہر ایک باب میں ہم

ہر اک ورق میں نمایاں ہر ایک باب میں ہم
تھے حاشیہ کی طرح پھر بھی اس کتاب میں ہم
جواب ہم تھے ہمارے لیے جواب نہ تھے
سوال میں تو تھے شامل نہ تھے جواب میں ہم
کوئی 'ملا' ہی نہیں جس سے حالِ دل کہتے
ملا تو رہ گئے لفظوں کے انتخاب میں ہم

Thursday, 22 December 2016

زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے

زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے
اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپا لی میں نے
جب زمیں ریت کی مانند سرکتی پائی 
آسماں تھام لیا،۔ جان بچا لی میں نے
مرحلہ کوئی جدائی کا جو در پیش ہوا
تو تبسم کی ردا غم کو اُڑھا لی میں نے

خزاں کی زرد سے رنگت بدل بھی سکتی ہے

خزاں کی زرد سے رنگت بدل بھی سکتی ہے
بہار آنے کی صورت نکل بھی سکتی ہے
ذرا سنبھل کے جلانا عقیدتوں کے چراغ
بھڑک نہ جائیں کہ مسند یہ جل بھی سکتی ہے
ابھی تو چاک پہ جاری ہے رقص مٹی کا
ابھی کمہار کی نیت بدل بھی سکتی ہے

جنوں میں دامن دل گرچہ تار تار ہوا

جنوں میں دامنِ دل گرچہ تار تار ہوا
مگر یہ جشن سر کوچۂ بہار ہوا
ہر ایک سجدے میں دل کو ترا خیال آیا
یہ اک گناہ عبادت میں بار بار ہوا
کسی کے واسطے تصویرِ انتظار تھے ہم
وہ آ گیا،۔ پہ کہاں ختم انتظار ہوا

سارے موسم بدل گئے شاید

سارے موسم بدل گئے شاید
اور ہم بھی سنبھل گئے شاید
جھیل کو کر کے ماہتاب سپرد 
عکس پا کر بہل گئے شاید
ایک ٹھہراؤ آ گیا کیسا 
زاوئیے ہی بدل گئے شاید

دو بوند آنسو

دو بوند آنسو

پتا ٹوٹا 
شاخ سے دیکھو
آنگن آنگن اڑتا جائے
اک ٹک دیکھوں
میں باوریا

Sunday, 14 August 2016

ذہن کے صحراؤں میں چلتی ہے طوفانی ہوا

ذہن کے صحراؤں میں چلتی ہے طوفانی ہوا 
ڈھونڈتی ہے جا بجا کیا جانے دیوانی ہوا
خود ہے سرگرداں کسی کی جستجو میں ہر گھڑی 
کیوں ہے میری خاک پر پھر اتنی حیرانی ہوا
دیکھ پھر طوفاں کی ضد سے ہو گئی گل روشنی 
تُو ہے پاگل تُو نے اس کی بات کیوں مانی ہوا

دل تو ناداں ہے ترے ساتھ کی ضد کرتا ہے

دل تو ناداں ہے تِرے ساتھ کی ضد کرتا ہے 
کتنا پاگل ہے بِنا بات کی ضد کرتا ہے
چاہتا ہے وہ کسی آگ میں جل کر دیکھے
تپتے سورج سے ملاقات کی ضد کرتا ہے
چاند کے دیس کی پریوں کی کہانی سن کر
کسی جادو کی طلسمات کی ضد کرتا ہے 

اپنی دنیا سے چلو میرے جہاں تک آؤ

اپنی دنیا سے چلو میرے جہاں تک آؤ 
راستہ بھولے تھے جس رہ پہ وہاں تک آؤ
سنو! مٹی کے بکھر جانے کے امکاں ہیں بہت 
اس لیے روح سے ہو کر دل و جاں تک آؤ
میری خاموشی کے ہر لفظ کو محسوس کرو 
جنبشِ لب کے بغیر اس کے بیاں تک آؤ

فریب کھایا تو پھر زیست پر عذاب اترے

فریب کھایا تو پھر زیست پر عذاب اترے 
وہ کیا گیا کہ محبت کے سارے خواب اترے 
وہ جان و دل میں اترتا رہا سکوں بن کر 
تھا قرب ایسا رگ و جاں میں ماہتاب اترے
میں جیسے رات کی رانی کی بھینی خوشبو ہوں 
طلوع صبح تصور کا خواب خواب اترے

اجنبی سا اک ستارہ ہوں میں سیاروں کے بیچ

اجنبی سا اک ستارہ ہوں میں سیاروں کے بیچ
اک جدا کردار ہوں اپنے ہی کرداروں کے بیچ
پھر رہی ہوں بے سبب پاگل ہوا سی جا بجا
دھند میں لپٹے ہوئے خاموش کہساروں کے بیچ
اس حصارِ خاک کو جب توڑ کر نکلوں گی میں
ڈھونڈتے رہ جاؤ گے تم مجھ کو دیواروں کے بیچ