عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
سب مشکلوں کا حل تُو ہی ربِ کریم ہے
اور ذات پاک تیری غفور رحیم ہے
ذی قدر و ذی جلال تُو ذی شان و ذی شرف
تیری ہی بندگی تو راہِ مستقیم ہے
عزم و یقین و ضبط کا ہر مسئلے کا حل
اک درس گاہ تیرا کلام کریم ہے
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
سب مشکلوں کا حل تُو ہی ربِ کریم ہے
اور ذات پاک تیری غفور رحیم ہے
ذی قدر و ذی جلال تُو ذی شان و ذی شرف
تیری ہی بندگی تو راہِ مستقیم ہے
عزم و یقین و ضبط کا ہر مسئلے کا حل
اک درس گاہ تیرا کلام کریم ہے
وہ خطاکار نہیں میں بھی گنہگار نہیں
راستہ عشق کا اس پر بھی تو ہموار نہیں
درمیاں، نامِ خدا رکھ دیا آخر میں نے
اب جدائی میں کہیں جیت کہیں ہار نہیں
ایک ہونے کی تو صورت ہی نہیں ہے کوئی
جاں مگر جاں سے جدا ہونے کو تیار نہیں
رات کے پچھلے پہر جس نے جگایا، کیا تھا
کوئی آسیب زدہ ہجر کا سایہ، کیا تھا
نہ تو ہم سمجھے، نہ کی کوئی وضاحت دل نے
جانے اپنا تھا کہ وہ شخص پرایا، کیا تھا
یہ تو سچ ہے کہ لبوں نے نہ کوئی جنبش کی
پر نگاہوں نے جو پیغام سنایا، کیا تھا
موسم گل پر خزاں کا زور چل جاتا ہے کیوں
ہر حسیں منظر بہت جلدی بدل جاتا ہے کیوں
یوں اندھیرے میں دکھا کر روشنی کی اک جھلک
میری مُٹھی سے ہر اک جگنو نِکل جاتا ہے کیوں
روشنی کا اک مسافر تھک کے گھر آتا ہے جب
تو اندھیرا میرے سورج کو نِگل جاتا ہے کیوں