Thursday, 22 December 2016

سارے موسم بدل گئے شاید

سارے موسم بدل گئے شاید
اور ہم بھی سنبھل گئے شاید
جھیل کو کر کے ماہتاب سپرد 
عکس پا کر بہل گئے شاید
ایک ٹھہراؤ آ گیا کیسا 
زاوئیے ہی بدل گئے شاید
اپنی لو میں تپا کے ہم خود کو 
موم بن کر پگھل گئے شاید
کانپتی لو قرار پانے لگی 
جھونکے آ کر نکل گئے شاید
ہم ہوا سے بچا رہے تھے جنہیں 
ان چراغوں سے جل گئے شاید
اب کے برسات میں بھی دل خوش ہے 
ہجر کے خوف ٹل گئے شاید
صاف ہونے لگے سبھی منظر 
اشک آنکھوں سے ڈھل گئے شاید
وہ علینؔا بدل گیا تھا بہت 
اس لیے ہم سنبھل گئے شاید

علینا عترت

No comments:

Post a Comment