جنوں میں دامنِ دل گرچہ تار تار ہوا
مگر یہ جشن سر کوچۂ بہار ہوا
ہر ایک سجدے میں دل کو ترا خیال آیا
یہ اک گناہ عبادت میں بار بار ہوا
کسی کے واسطے تصویرِ انتظار تھے ہم
نہیں بجھایا ہواؤں نے پہلی بار چراغ
یہ سانحہ تو مِرے ساتھ بار بار ہوا
جو تجھ میں ڈوب کے دیکھا تو پا لیا تجھ کو
علیناؔ یوں مِرا پھر مجھ پہ اختیار ہوا
علینا عترت
No comments:
Post a Comment