خزاں کی زرد سے رنگت بدل بھی سکتی ہے
بہار آنے کی صورت نکل بھی سکتی ہے
ذرا سنبھل کے جلانا عقیدتوں کے چراغ
بھڑک نہ جائیں کہ مسند یہ جل بھی سکتی ہے
ابھی تو چاک پہ جاری ہے رقص مٹی کا
یہ آفتاب سے کہہ دو کہ فاصلہ رکھے
تپش سے برف کی دیوار گل بھی سکتی ہے
ترے نہ آنے کی تشریح کچھ ضروری نہیں
کہ تیرے آنے سے دنیا بدل بھی سکتی ہے
کوئی ضروری نہیں وہ ہی دل کو شاد کرے
علینؔا آپ طبیعت بہل بھی سکتی ہے
علینا عترت
No comments:
Post a Comment