Showing posts with label ثروت رضوی. Show all posts
Showing posts with label ثروت رضوی. Show all posts

Friday, 9 August 2024

یہ کیا ہوا کہ مکرر درود پڑھنے لگا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہ کیا ہوا کہ مکرر درود پڑھنے لگا

وجود میرا سراسر درود پڑھنے لگا

درخت سر کو جھکائے ہوا چلا آیا

جو انؐ کو دیکھا تو پتھر درود پڑھنے لگا

زمین والوں نے بھیجا سلام کا تحفہ

خدا بزرگ و برتر درود پڑھنے لگا

Monday, 5 August 2024

عالم زر سے جو حب حیدری لکھا گیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عالم زر سے جو حبِ حیدری لکھا گیا

یوں مقدر روشنی در روشنی لکھا گیا

دو جہاں میں مجھ کو ان کے نام سے جانا گیا

کام میرا صرف ان کی چاکری لکھا گیا

لکھ رہے تھے سب عریضے میں ہزاروں حاجتیں

اور مجھ سے اک فقط اسمِ علیؑ لکھا گیا

Tuesday, 9 July 2024

اسم شبیر مری آنکھ کا نم کھینچتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کھینچتا رہتا ہے سانسوں کو بہم کھینچتا ہے

اس کا احسان ہے سینے میں جو دم کھینچتا ہے

چودہ ناموں کاہی حلقہ مِرے قرطاس پہ ہے

دائرہ ایک ہی بس میرا قلم کھینچتا ہے 

خود بخود چلتی چلی جاتی ہوں میں کوئے نجف

با خدا کوئی تو ہے میرے قدم کھینچتا ہے

Tuesday, 28 November 2023

یا رب یہ میرا دل ہے کہ دیوان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یارب یہ میرا دل ہے کہ دیوانِ نعت ہے

تطہیر ہو گئی ہے یہ فیضانِ نعت ہے

پہنچوں سرِ مدینۂ عشاقِ آرزو

پکڑا ہوا جو خیر سے دامانِ نعت ہے

دھڑکن میں گونج صلِ علیٰ کی بصد خلوص

میری ہر ایک سانس میں امکانِ نعت ہے

Tuesday, 8 June 2021

مشام جاں میں ترے خدوخال کی خوشبو

 مشامِ جاں میں تِرے خد و خال کی خُوشبو

فراق میں بھی مسلسل وصال کی خوشبو

اندھیری شب میں مجھے راستہ دکھاتی ہے

مسافتوں میں مِرے خوش جمال کی خوشبو

یہ ہاتھ زخمِ بہاراں کے خار و گُل چُن کر

سنبھالتے رہے آب و سفال کی خوشبو

Wednesday, 5 May 2021

سنا ہے جب زمستانی ہوائیں

 سنا ہے


سنا ہے جب زمستانی ہوائیں

مُنقّش نیلگُوں گنبد کو بوسہ دے کے آتی ہیں

تو ان کے لمس کو پا کر

چمکتے سرد برفیلے فرش پر کپکپاتے طائروں کو

حرارت بخش دیتی ہیں

Monday, 3 May 2021

آتشی و آفتابی کر گیا خواب کا منظر گلابی کر گیا

 آتشی و آفتابی کر گیا

خواب کا منظر گلابی کر گیا

اک صدی بھر کی مسافت ایک پَل

دل کو گویا ماہتابی کر گیا

شب گزیدہ آ گیا کس کا خیال

رُوئے تاباں آفتابی کر گیا

ہم دونوں الگ الگ دائروں میں قید ہیں

 مختصر نظم


ہم دونوں الگ الگ دائروں میں قید ہیں 

یہ یاد ہی نہیں رہتا 

دائروں میں راستے نہیں ہوتے


ثروت رضوی

Sunday, 2 May 2021

جی چاہتا ہے کاش مکرر دکھائی دے

 منقبت بر مولا علی


جی چاہتا ہے کاش مکرر دکھائی دے

دیوار کیسے ہو گئی تھی در دکھائی دے

بنتِ اسد تھیں گود میں قرآں لیے ہوئے

تیرہ رجب کی رات کا منظر دکھائی دے

میرے علیؑ کا نام جو لکھا ہے اس لیے

روشن مجھے یہ ماہِ منور دکھائی دے

Sunday, 13 December 2020

آپ تو پتھر کی عورت ہیں

 پتھر کی عورت


باجی آپ تو پتھر کی عورت ہیں

زینت نے اس کے پاؤں کے کورن کا مساج کرتے ہوئے اچانک کہا 

اور پھر نیم گرم تیل ہاتھ میں لے کر زخمی انگوٹھے کو ملنے لگی

کیسے لگائی ہیں یہ گانٹھیں؟

اب کی بار اس نے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیے