عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ کیا ہوا کہ مکرر درود پڑھنے لگا
وجود میرا سراسر درود پڑھنے لگا
درخت سر کو جھکائے ہوا چلا آیا
جو انؐ کو دیکھا تو پتھر درود پڑھنے لگا
زمین والوں نے بھیجا سلام کا تحفہ
خدا بزرگ و برتر درود پڑھنے لگا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ کیا ہوا کہ مکرر درود پڑھنے لگا
وجود میرا سراسر درود پڑھنے لگا
درخت سر کو جھکائے ہوا چلا آیا
جو انؐ کو دیکھا تو پتھر درود پڑھنے لگا
زمین والوں نے بھیجا سلام کا تحفہ
خدا بزرگ و برتر درود پڑھنے لگا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عالم زر سے جو حبِ حیدری لکھا گیا
یوں مقدر روشنی در روشنی لکھا گیا
دو جہاں میں مجھ کو ان کے نام سے جانا گیا
کام میرا صرف ان کی چاکری لکھا گیا
لکھ رہے تھے سب عریضے میں ہزاروں حاجتیں
اور مجھ سے اک فقط اسمِ علیؑ لکھا گیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کھینچتا رہتا ہے سانسوں کو بہم کھینچتا ہے
اس کا احسان ہے سینے میں جو دم کھینچتا ہے
چودہ ناموں کاہی حلقہ مِرے قرطاس پہ ہے
دائرہ ایک ہی بس میرا قلم کھینچتا ہے
خود بخود چلتی چلی جاتی ہوں میں کوئے نجف
با خدا کوئی تو ہے میرے قدم کھینچتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یارب یہ میرا دل ہے کہ دیوانِ نعت ہے
تطہیر ہو گئی ہے یہ فیضانِ نعت ہے
پہنچوں سرِ مدینۂ عشاقِ آرزو
پکڑا ہوا جو خیر سے دامانِ نعت ہے
دھڑکن میں گونج صلِ علیٰ کی بصد خلوص
میری ہر ایک سانس میں امکانِ نعت ہے
مشامِ جاں میں تِرے خد و خال کی خُوشبو
فراق میں بھی مسلسل وصال کی خوشبو
اندھیری شب میں مجھے راستہ دکھاتی ہے
مسافتوں میں مِرے خوش جمال کی خوشبو
یہ ہاتھ زخمِ بہاراں کے خار و گُل چُن کر
سنبھالتے رہے آب و سفال کی خوشبو
سنا ہے
سنا ہے جب زمستانی ہوائیں
مُنقّش نیلگُوں گنبد کو بوسہ دے کے آتی ہیں
تو ان کے لمس کو پا کر
چمکتے سرد برفیلے فرش پر کپکپاتے طائروں کو
حرارت بخش دیتی ہیں
آتشی و آفتابی کر گیا
خواب کا منظر گلابی کر گیا
اک صدی بھر کی مسافت ایک پَل
دل کو گویا ماہتابی کر گیا
شب گزیدہ آ گیا کس کا خیال
رُوئے تاباں آفتابی کر گیا
مختصر نظم
ہم دونوں الگ الگ دائروں میں قید ہیں
یہ یاد ہی نہیں رہتا
دائروں میں راستے نہیں ہوتے
ثروت رضوی
منقبت بر مولا علی
جی چاہتا ہے کاش مکرر دکھائی دے
دیوار کیسے ہو گئی تھی در دکھائی دے
بنتِ اسد تھیں گود میں قرآں لیے ہوئے
تیرہ رجب کی رات کا منظر دکھائی دے
میرے علیؑ کا نام جو لکھا ہے اس لیے
روشن مجھے یہ ماہِ منور دکھائی دے
پتھر کی عورت
باجی آپ تو پتھر کی عورت ہیں
زینت نے اس کے پاؤں کے کورن کا مساج کرتے ہوئے اچانک کہا
اور پھر نیم گرم تیل ہاتھ میں لے کر زخمی انگوٹھے کو ملنے لگی
کیسے لگائی ہیں یہ گانٹھیں؟
اب کی بار اس نے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیے