Sunday, 2 May 2021

جی چاہتا ہے کاش مکرر دکھائی دے

 منقبت بر مولا علی


جی چاہتا ہے کاش مکرر دکھائی دے

دیوار کیسے ہو گئی تھی در دکھائی دے

بنتِ اسد تھیں گود میں قرآں لیے ہوئے

تیرہ رجب کی رات کا منظر دکھائی دے

میرے علیؑ کا نام جو لکھا ہے اس لیے

روشن مجھے یہ ماہِ منور دکھائی دے

ماں سے سنے  شجاعتِ حیدرؑ کے تذکرے

مجھ کو تخیلات میں خیبر دکھائی دے

کیسے کیا تھا مولا علی و ولی نے وار

کیسے گرے تھے مرحب و عنتر دکھائی دے

گر ہے یقیں نہیں تو نجف کربلا کو دیکھ

جنت اسی زمین کے اوپر دکھائی دے

ہجرت کی شب رسولؐ کے بستر پہ کون ہے

جانِ رسول نفسِ پیمبر دکھائی دے

یہ ہمکلام کون ہے ثروت شبِ وصال

یہ کس کا ہاتھ پردے کے باہر دکھائی دے


ثروت رضوی

No comments:

Post a Comment