منقبت بر مولا علی
جی چاہتا ہے کاش مکرر دکھائی دے
دیوار کیسے ہو گئی تھی در دکھائی دے
بنتِ اسد تھیں گود میں قرآں لیے ہوئے
تیرہ رجب کی رات کا منظر دکھائی دے
میرے علیؑ کا نام جو لکھا ہے اس لیے
روشن مجھے یہ ماہِ منور دکھائی دے
ماں سے سنے شجاعتِ حیدرؑ کے تذکرے
مجھ کو تخیلات میں خیبر دکھائی دے
کیسے کیا تھا مولا علی و ولی نے وار
کیسے گرے تھے مرحب و عنتر دکھائی دے
گر ہے یقیں نہیں تو نجف کربلا کو دیکھ
جنت اسی زمین کے اوپر دکھائی دے
ہجرت کی شب رسولؐ کے بستر پہ کون ہے
جانِ رسول نفسِ پیمبر دکھائی دے
یہ ہمکلام کون ہے ثروت شبِ وصال
یہ کس کا ہاتھ پردے کے باہر دکھائی دے
ثروت رضوی
No comments:
Post a Comment