ہیں کھنڈر میں کمال کی اینٹیں
دیکھ عہدِ زوال کی اینٹیں
مقبرے ہوں کہ سانس لیتے گھر
ہیں یہ خواب و خیال کی اینٹیں
کرے مجنوں خطاب دنیا سے
پھینکتا ہے سوال کی اینٹیں
ہیں کھنڈر میں کمال کی اینٹیں
دیکھ عہدِ زوال کی اینٹیں
مقبرے ہوں کہ سانس لیتے گھر
ہیں یہ خواب و خیال کی اینٹیں
کرے مجنوں خطاب دنیا سے
پھینکتا ہے سوال کی اینٹیں
یہ تو ہونا ہی ہے کبھو نہ کبھو
پہلے میں چل بسوں کہ پہلے تُو
گوندھی جائے گی پھر تِری مٹی
پھر کسی چاک پر چڑھے گا تُو
دوستی، دشمنی کے سنگ پلے
ہائے یہ اختلاف کے پہلو
میں اسے زندگی سے ڈسواتا
کاش ہوتا اجل کا اک بیٹا
تن کو بھُونا زمیں کے شعلوں پر
میں نے دوزخ سے اپنا رزق لیا
یہ زمیں گندگی کا ڈھیر بھی ہے
تُو فقط باغ میں پھرے بہکا
قبر کا کوئی در نہ دروازہ
کیا سنے گا وہ میرا آوازہ
کھنڈ گئی تن پہ موت کی زردی
زندگانی ہے عارضی غازہ
مر کے بیمار نے کیا آرام
طے ہوا کشمکش کا خمیازہ
اے خدا پاؤں ڈال دوزخ میں
آگ دنیا کی ہم یہ کیا پھانکیں
کھلیں آنکھیں ہزار سال کے بعد
آؤ مل کر حنوط ہو جائیں
روتے روتے کبھی تو وہم اٹھا
پھر سمندر میں ہم نہ مل جائیں