Showing posts with label رفیق اظہر. Show all posts
Showing posts with label رفیق اظہر. Show all posts

Wednesday, 2 June 2021

ہیں کھنڈر میں کمال کی اینٹیں

 ہیں کھنڈر میں کمال کی اینٹیں

دیکھ عہدِ زوال کی اینٹیں

مقبرے ہوں کہ سانس لیتے گھر

ہیں یہ خواب و خیال کی اینٹیں

کرے مجنوں خطاب دنیا سے

پھینکتا ہے سوال کی اینٹیں

Tuesday, 1 June 2021

یہ تو ہونا ہی ہے کبھو نہ کبھو

 یہ تو ہونا ہی ہے کبھو نہ کبھو

پہلے میں چل بسوں کہ پہلے تُو

گوندھی جائے گی پھر تِری مٹی

پھر کسی چاک پر چڑھے گا تُو

دوستی، دشمنی کے سنگ پلے

ہائے یہ اختلاف کے پہلو

Monday, 31 May 2021

میں اسے زندگی سے ڈسواتا

 میں اسے زندگی سے ڈسواتا

کاش ہوتا اجل کا اک بیٹا

تن کو بھُونا زمیں کے شعلوں پر

میں نے دوزخ سے اپنا رزق لیا

یہ زمیں گندگی کا ڈھیر بھی ہے

تُو فقط باغ میں پھرے بہکا

Sunday, 30 May 2021

قبر کا کوئی در نہ دروازہ

 قبر کا کوئی در نہ دروازہ

کیا سنے گا وہ میرا آوازہ

کھنڈ گئی تن پہ موت کی زردی

زندگانی ہے عارضی غازہ

مر کے بیمار نے کیا آرام

طے ہوا کشمکش کا خمیازہ

اے خدا پاؤں ڈال دوزخ میں

 اے خدا پاؤں ڈال دوزخ میں

آگ دنیا کی ہم یہ کیا پھانکیں

کھلیں آنکھیں ہزار سال کے بعد

آؤ مل کر حنوط ہو جائیں

روتے روتے کبھی تو وہم اٹھا

پھر سمندر میں ہم نہ مل جائیں