Showing posts with label مسرور کاشمیری. Show all posts
Showing posts with label مسرور کاشمیری. Show all posts

Wednesday, 25 March 2026

میں عرش و فرش پر محو خیال طور رہتا ہوں

 میں عرش و فرش پر محوِ خیال طور رہتا ہوں

عیاں سیرت سے ہوں، صورت سے گو مستور رہتا ہوں

حقیقت میں میرا مسکن تو مے خانہ ہے مے خانہ

نہ حاجت جام و مینا کی، نشے میں چُور رہتا ہوں

میرا سایہ نہ چھوڑے گا قیامت تک میرا پیچھا

یہ اتنا پاس آتا ہے، میں جتنا دور رہتا ہوں

Monday, 18 November 2024

زندگی زندہ دلی ہے، مردنی چھا جائے کیوں

 زندگی زندہ دلی ہے، مردنی چھا جائے کیوں

موت کی آغوش میں جانے سے پھر گھبرائے کیوں

کشمکش ہے اس لیے قاصد کا ہے بس انتظار

ناز ہے اپنی وفا پر بن بلائے جائے کیوں

کیوں نہ ہو جلوہ نما جو دوستی جب عام ہے

پھر نگاہِ شوق کو وہ اس قدر ترسائے کیوں

Friday, 18 October 2024

میری زندگی کے ہیں چار دن انہیں کیوں نہ ہنس کر گزار لوں

 میری زندگی کے ہیں چار دن انہیں کیوں نہ ہنس کر گزار لوں

جو الجھ الجھ کے بگڑ گئی، اسے اب سلجھ کے سنوار لوں

کبھی اس طرح، کبھی اس طرح پھنسے، پھنس کے پھڑ پھڑکا کیے

پھرا لے کے پاپ کی گٹھڑیاں، انہیں کیوں نہ سر سے اتار لوں

مجھے آزمائش میں ڈال کے اسے اب تسلی تو ہو چکی

دی فلک نے اب تک جو بے کلی اسے اب سکون و قرار لوں

Saturday, 12 October 2024

یا رب ہمیں اب ایسا کوئی ہم سفر تو دے

 یا رب ہمیں اب ایسا کوئی ہمسفر تو دے

ذوقِ سفر ہو، منزلِ نو کی خبر تو دے

گُل کا بسیرا ہو گیا کانٹوں کی سیج پر

منزل کٹھن سہی مگر شوقِ سفر تو دے

چرخِ کُہن سے ہم کو اُمیدِ وفا نہیں

خُوشیاں نہ دے سکا ہے نہ دے غمِ دہر تو دے