میں عرش و فرش پر محوِ خیال طور رہتا ہوں
عیاں سیرت سے ہوں، صورت سے گو مستور رہتا ہوں
حقیقت میں میرا مسکن تو مے خانہ ہے مے خانہ
نہ حاجت جام و مینا کی، نشے میں چُور رہتا ہوں
میرا سایہ نہ چھوڑے گا قیامت تک میرا پیچھا
یہ اتنا پاس آتا ہے، میں جتنا دور رہتا ہوں